نہ آدمی پہ خدا کی زمین تنگ کرو اگر ہو جنگ ضروری ، ضرور جنگ کرو جمی ہوئی ہے سیاہی طویل مُدّت سے کبھی تو دِل کے مکاں پر سفید رنگ کرو حیات جس نے گزاری ہے بندگی میں سدا نہ ہمکنار اُسے دستِ تیغ و سنگ کرو ہے جس پہ عُمر بِتانی ، چُنو وہی بستر جو نیند بخشے ، وہی منتخب پلنگ کرو عقیدتوں کی بَلندی پہ لوگ رشک کریں دھمال ناز کرے ، خود کو یوں ملنگ کرو جو لوگ بابِ تحیّرکی سمت جا نہ سکے اُنھیں…
Read MoreTag: Aftab Khan
آفتاب خان ۔۔۔ وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے
وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے اُس حسنِ بَلاخیز سے یہ آنکھ لڑی ہے کہنے کو بہت کم ہے ہتھیلی پہ حِنا رنگ انگشت مگر اُس کی نگینے سے جڑی ہے نِت روز تماشا کرے خلقت سرِ بازار اور زیست کسی چوک میں حیران کھڑی ہے فرما دیا جو مَیں نے حقیقت ہے وہی بس ہاں دُکھ ہے یہی ، خلقِ خدا ضد پہ اڑی ہے ویسے تو سرِ بزم دکھائی نہ دیں آنسُو پلکوں کے دوروں خانہ تو ساون کی جھڑی ہے اولاد کا ہے فرض…
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ ہونٹ جُنبش نہ کریں، آنکھ میں پانی ہی نہ ہو
ہونٹ جُنبش نہ کریں، آنکھ میں پانی ہی نہ ہو کیسے ممکن ہے بیاں ، دِل کی کہانی ہی نہ ہو سُست قدموں سے رواں ہے جو سُوئے موجِ رواں اُس نے گنگا میں کہیں راکھ بہانی ہی نہ ہو جس کے کاندھوں پہ کئی صدیوں کا ہے بوجھ لدا اُس نے یہ لاش کہیں اور دبانی ہی نہ ہو موم اور دھاگے اُٹھائے وہ چلا آیا ہے پھر سرِبزم کوئی شمع جلانی ہی نہ ہو بَن سنور کر جو نکل آئے ترے شہر کی سمت ہم نے اِس دشت…
Read Moreعقیدت ۔۔۔ آفتاب خان (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
جینے کا مزا آئے سرکار کے سائے میں میں زیست گزاروں گا کردار کے سائے میں آقاؐ نے لگایا تھا اک باغ کھجوروں کا اے بخت وہیں لے چل اشجار کے سائے میں ہر وقت مرے لب پر بس اُنؐ کا درود آئے یہ عمر کٹے انؐ کے افکار کے سائے میں ہوتا ہے گزر ہر پل جنت کی ہواؤں کا بیٹھا ہی رہوں ان ؐکی دیوار کے سائے میں وہ دور صحابہؓ کا ذیشان و معزز تھا اے کاش میں رہتا اس دربار کے سائے میں جو دینِ محمدؐ…
Read Moreعقیدت ۔۔۔ افتاب خان (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023)
جینے کا مزا آئے سرکار کے سائے میں میں زیست گزاروں گا کردار کے سائے میں آقاؐ نے لگایا تھا اک باغ کھجوروں کا اے بخت وہیں لے چل اشجار کے سائے میں ہر وقت مرے لب پر بس اُنؐ کا درود آئے یہ عمر کٹے انؐ کے افکار کے سائے میں ہوتا ہے گزر ہر پل جنت کی ہواؤں کا بیٹھا ہی رہوں ان ؐکی دیوار کے سائے میں وہ دور صحابہؓ کا ذیشان و معزز تھا اے کاش میں رہتا اس دربار کے سائے میں جو دینِ محمدؐ…
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ سینے کی تہ میں دل سے اچانک دھواں اُٹھا
سینے کی تہ میں دل سے اچانک دھواں اُٹھا پہلو سے میرے جب وہ مرا مہرباں اُٹھا واجب ہوئی ہیں آنکھ پہ تب اشک باریاں جس روز بزمِ دل سے کوئی ہم زباں اُٹھا دیکھی گئیں نہ اُس سے نئی نِت صراحیاں چپ چاپ مے کدے سے وہ پیرِ مغاں اُٹھا باہر تو خیریت ہے، بس اندر ہے ابتری دیکھا نہ وہ کسی نے، جو سوزِ نہاں اُٹھا ہوتا نہیں کسی پہ بھی واعظ کا کچھ اثر جاتی رہی مٹھاس تو لطفِ بیاں اُٹھا سب دیکھتے رہے ہیں، سہارا نہیں…
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ قدیم گھر کے در و بام درج کرتا ہوں
قدیم گھر کے در و بام درج کرتا ہوں میں بیچنے کے لیے دام درج کرتا ہوں نہ مِل سکے گا خریدار دل کی بستی کا جو بِک چکے ہیں، وہ گلفام درج کرتا ہوں لہو نچوڑ کے تن کے شکستہ برتن میں میں اپنی زیست کے آلام درج کرتا ہوں اس اہتمام سے یہ زندگی گزاری ہے جو آج کرنے ہیں وہ کام درج کرتا ہوں فلک سے مجھ پہ اُترتے ہیں جو حر وفِ سخن میں شاعری کے وہ الہام درج کرتا ہوں جو اُس کو کہنا تھا،…
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ عشق گر با وفا نہیں ہوتا
عشق گر با وفا نہیں ہوتا حسن بھی دیرپا نہیں ہوتا دل سے جب دل جُدا نہیں ہوتا ہجر کا مرحلہ نہیں ہوتا بخت والوں کو ہجر ملتا ہے درد یہ خود چُنا نہیں ہوتا ہجر بھی آسمانی تحفہ ہے یہ سبھی کو عطا نہیں ہوتا ہجر میں جس قدر سکون ملے وصل میں وہ مزا نہیں ہوتا ایسا اُلجھا ہوں اس کی اُلجھن میں زُلف سے میں رہا نہیں ہوتا کیوں بھٹکتی ہیں دید کو آنکھیں تم سے جب رابطہ نہیں ہوتا جب اُسے ڈھونڈنے نکلتا ہوں پاس اُس…
Read Moreآفتاب خان … اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے
اگر یہ عشق مصیبت میں ڈالتا ہے مجھے فلک سے آکے فرشتہ نکالتا ہے مجھے میں روز ایک نئی بحر میں الجھتا ہوں یہ کون شعر و سخن میں اچھالتا ہے مجھے مرا شمار بھی ہوگا گناہ گاروں میں وہ جانتا ہے مگر پھر بھی پالتا ہے مجھے میں زندگی میں کئی بار ڈگمگایا ہوں مگر وہی تو ہمیشہ سنبھالتا ہے مجھے قدم قدم پہ رکاوٹ کا سامنا ہے مگر وہ امتحان سے کندن میں ڈھالتا ہے مجھے بدن سے میل کسی طور اب اتر جائے وہ اس لیے لبِ…
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ نظیر اور کب ہے کہیں آسماں کی
نظیر اور کب ہے کہیں آسماں کی سیاحت کرو ، مرمریں آسماں کی وہاں نور پھیلا ہوا ہے خدا کا نشانی ہے یہ بہتریں آسماں کی زمیں تو مری اُنگلیوں پر کھڑی ہے میں حد دیکھ پایا نہیں آسماں کی تجھے ساتھ لے کر میں جاؤں وہاں تک جہاں تک ہے وسعت زمیں آسماں کی مری جیب میں ایک عرصے سے موجود ہے تصویر اک دل نشیں آسماں کی گھٹاؤں نے ہر سو دھواں سا بکھیرا ہے رُت دیدنی سُرمگیں آسماں کی وہاں اُس نے جاکر نہیں کچھ بتایا جو…
Read More