ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ ہمیں نے رُخ پہ ملا خونِ گرم کا غازہ اُداسیوں کی کڑی دُھوپ مجھ پہ رحم نہ کھا گئے دنوں کی وفا کا یہی ہے خمیازہ ہے تار تار کچھ اتنا لباسِ حال مرا شعورِ ذات بھی کسنے لگا ہے آوازہ مجھے بھی دے گا کوئی شہر میں کبھی ترتیب ہے کوئی آنکھ کہ بکھرا ہوا ہے شیرازہ یہ اور بات کئی حسن دلفریب ملے کھلا نہ ہم پہ کسی کی ادا کا دروازہ ہر ایک دُکھ کو بڑے صبر سے سہا…
Read MoreTag: Syed Al e Ahmad
سید آل احمد ۔۔۔ نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے
نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے دشت کہتے ہیں کسے‘ کون ہوں میں‘ تو کیا ہے روح گھائل ہے بھلا کیسے بدن کو سمجھائے اس کڑی دھوپ میں تسکین کا پہلو کیا ہے تجھ سے اک پل بھی جدا ہوں تو تڑپ اُٹھتا ہوں اے مرے پیار کی آسودہ خلش! تو کیا ہے کونپلیں شاخ پہ پھوٹیں بھی تو جل جاتی ہیں پیڑ حیراں ہیں‘ نمو چیز ہے کیا‘ لُو کیا ہے تو فرشتہ ہے نہ جب قادرِ لغزش احمدؔ یہ اَنا کیا ہے تری اور یہ تری…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ یہ الگ بات‘ ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے
یہ الگ بات‘ ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے اے مری کاہشِ جاں! کس نے ستایا ہے مجھے اتنی نفرت تو مرے دل میں نہ جاگی تھی کبھی سوچ‘ کس شخص نے یہ زہر پلایا ہے مجھے پھر کوئی تازہ کسک دل کی تہوں میں اُتری پھر کسی خواب نے آئینہ دکھایا ہے مجھے کس نے لوٹا ہے مرے ذہن کی سوچوں کا سہاگ اے مرے قلب تپاں! کس نے چرایا ہے مجھے تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے
سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے شاید مجھ سے اب تک پگلی آس لگائے بیٹھی ہے میری کسک‘ یہ میری ٹیسیں‘ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں؟ آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو! دل تو میرا زخمی ہے نفس نفس اک تازہ سرابِ منزل خواب ہے یہ دُنیا نظر نظر قدموں سے خواہش سایہ بن کر لپٹی ہے چپ مت سادھو‘ جھوٹ نہ بولو‘ اب تو اطمینان سے ہو اب تو ہر دن سو جاتا ہے‘ اب تو ہر شب جاگتی ہے دل ایسا معصوم پرندہ‘ اپنے…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا
آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا ابر کا انتظار کتنا تھا اک الاو تھا رُوٹھنا اس کا مسکراتی تو پھول کھل جاتا دل کے در پر یہ کس نے دستک دی گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا تیری قربت مری ضرورت تھی یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا دو قدم اور ساتھ دے لیتے حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ آو قانون کی کتاب پڑھیں اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا میرے حصے میں غم کی…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ
اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ سلسلہ جڑ تو گیا حسنِ طرح دار کے ساتھ صاحبِ دل ہیں‘ کوئی رُت ہو‘ بھرم رکھتے ہیں اپنا رشتہ ہے ازل سے رسن و دار کے ساتھ اب کسے تن پہ سجائے گا کڑی دھوپ میں پیڑ ٹوٹ کر پتے لگے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ اِک ذرا دیر ٹھہر جا بت خاموش مزاج! نطق زنجیر تو کر لوں لبِ اظہار کے ساتھ عمر بھر کس نے اصولوں کو ترازو رکھا کون رُسوا ہوا اس شہر میں کردار کے ساتھ…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے
دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے اک رنج رایگاں کی طلب بے حساب ہے لغزش کے سہو پر مجھے شرمندگی نہیں قربت کی ہر کجی مری گل آفتاب ہے پچھلے برس بھی نیکیاں سب ضائع ہو گئیں اب کے برس بھی جان! کڑا احتساب ہے بے شک وہ بے وفا ہے مگر اس کی راہ میں دل کی طرح چراغ جلانا ثواب ہے اے صبح نو! لہو کی حرارت بھی کر عطا ہیں برف حرف لب پہ یہی انقلاب ہے نفرت بھی وہ کرے تو کوئی…
Read Moreسید آلِ احمد
گرتی ہے جس پہ برق یہی وہ لباس ہے سر پر دکھوں کی کالی ردا اوڑھ کر نہ بیٹھ
Read Moreسید آلِ احمد
تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا
Read Moreسید آلِ احمد
ناواقف و شناسا ذرا بھی نہیں لگی خوش بھی نہیں ہوئی وہ خفا بھی نہیں لگی
Read More