ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ
ہمیں نے رُخ پہ ملا خونِ گرم کا غازہ
اُداسیوں کی کڑی دُھوپ مجھ پہ رحم نہ کھا
گئے دنوں کی وفا کا یہی ہے خمیازہ
ہے تار تار کچھ اتنا لباسِ حال مرا
شعورِ ذات بھی کسنے لگا ہے آوازہ
مجھے بھی دے گا کوئی شہر میں کبھی ترتیب
ہے کوئی آنکھ کہ بکھرا ہوا ہے شیرازہ
یہ اور بات کئی حسن دلفریب ملے
کھلا نہ ہم پہ کسی کی ادا کا دروازہ
ہر ایک دُکھ کو بڑے صبر سے سہا احمدؔ
پہ حادثات میں چہرہ رہا ترو تازہ
