سید آل احمد ۔۔۔ سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے

سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے
شاید مجھ سے اب تک پگلی آس لگائے بیٹھی ہے

میری کسک‘ یہ میری ٹیسیں‘ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں؟
آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو! دل تو میرا زخمی ہے

نفس نفس اک تازہ سرابِ منزل خواب ہے یہ دُنیا
نظر نظر قدموں سے خواہش سایہ بن کر لپٹی ہے

چپ مت سادھو‘ جھوٹ نہ بولو‘ اب تو اطمینان سے ہو
اب تو ہر دن سو جاتا ہے‘ اب تو ہر شب جاگتی ہے

دل ایسا معصوم پرندہ‘ اپنے پر پھیلائے کیا؟
اندیشوں کی کالی بلی‘ گھات لگائے بیٹھی ہے

آپ تو بس اک خاص ادا سے ’’اپنا‘‘ کہہ کر بچھڑ گئے
اب تک اُس اک بات کی خوشبو دوشِ ہوا پر پھیلی ہے

کیسے اپنا دن گزرا‘ شب کیسے کٹی‘ کیا پوچھتے ہو
دن بھر شہر کی خاک اُڑائی‘ رات آنکھوں میں کاٹی ہے

آپ کو دیکھا‘ دل نہ مانا‘ ٹھہر گیا‘ ناراض نہ ہوں
اتنی اچھی صورت اکثر‘ ہوش اُڑا ہی دیتی ہے

میرے دیس کا چڑھتا سورج کیسے گرہن میں آیا ہے
اے فرزانو! کچھ تو بتاو‘ دُنیا تماشہ دیکھتی ہے

آپ کی تخلیقات پڑھے اب ایک زمانہ بیت گیا
احمدؔ صاحب! تازہ غزل کس الماری میں رکھی ہے

Related posts

Leave a Comment