وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو
بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے
جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی
غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے
کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا
ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے
بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ
شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے
چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے
اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
Related posts
-
ایک زمیں ۔۔۔ پانچ غزلیں۔۔۔ امید فاضلی ۔ محسن نقوی۔ جاذب قریشی ۔ احتشام بچھرایونی ۔ محسن احسان
امید فاضلی اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی... -
ماجد صدیقی ۔۔۔ رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے... -
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے
حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا...
