ماجد صدیقی ۔۔۔ خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا

خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا چڑیا کے بچّوں کو سانپ، نِگل جائے گا ایک شڑاپ سے پانی صید دبوچ کے اپنا بے دم کر کے اُس کو، دُور اُگل جائے گا اُس کے تلے کی مٹی تک، بے فیض رہے گی اِس دُنیا سے جو بھی درخت اَپَھل جائے گا خوف دلائے گا اندھیارا مارِ سیہ کا مینڈک سا، پیروں کو چھُو کے اُچھل جائے گا سُورج اپنے ساتھ سحر تو لائے گا پر کُٹیا کُٹیا ایک الاؤ جل جائے گا کب تک عرضِ تمنّا…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے

جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے باغ میں کھوؤں سے کھوئے جا بجا چھِلنے لگے مسندِ انصاف جب سے گُرگ کو حاصل ہوئی آسماں اور یہ زمیں اِک ساتھ ہیں ہلنے لگے کیا خبر برسائے جائیں گے وہ کس نااہل پر پھول پودوں پر بڑی خسّت سے اب کھِلنے لگے بے بصر کرنے لگی ماجد گماں کی تیرگی خوف کی سوزن چلی ایسی کہ لب سلنے لگے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے

جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے مطمئن کیا ہو بھلا بچّوں کی نادانی سے وہ ماں جسے فرصت نہیں اک آن بھی خدشات سے کر لئے بے ذائقہ وہ دن بھی جو آئے نہیں درس کیا لیتے بھلا ہم اور جھڑتے پات سے ابنِ آدم اب کے پھر فرعون ٹھہرا ہے جسے مل گیا زعمِ خدائی آہنی آلات سے جس کے ہم داعی ہیں ماجد ضَو نہیں، ظلمت ہے وہ پھوٹتی ہے جو ہمارے جسم کے ذرّات سے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں

کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں کس کا نوحہ کون کب لکھے یہاں ظاہری عنوان: اِک دینِ مبیں اور اندر ہیں کئی شجرے یہاں سب کے سب خود کو جِلا دیتے رہے ہیں مسیحا جس قدر اُترے یہاں اپنی قامت پر قد آور سب خفیف ذی شرف ہیں سب کے سب بونے یہاں ہم سے جو کھیلے وہ ماجد اور ہے ہم سبھی ہیں تاش کے پتّے یہاں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی

کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی آج بھی جبر کے ہیں زمانے وہی خم وہی رہ بہ رہ نا مرادوں کے سر کُو بہ کُو ذی شرف آستانے وہی فاختائیں دبکتی شجر در شجر اور زور آوروں کے نشانے وہی رام کرنے کو مرکب کا زورِ انا دستِ راکب میں ہیں تازیانے وہی شیر کی دھاڑ پر جستجو اوٹ کی اور چھپنے کو ماجد ٹھکانے وہی

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کھیت بھی اور حاصل ہے جسے سرداری بھی

کھیت بھی اور حاصل ہے جسے سرداری بھی ساتھ نہ دے کیونکر اُس کا پٹواری بھی خرقہ پوش ہیں شہر کی جو جو شَہراہیں دُور رہے اُن سے شہ کی اسواری بھی جس گوشے میں چاہے حرص کا مال سجے اُس جانب آ جاتے ہیں بیوپاری بھی

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ کھو ہی جاؤں نہ کہیں میں، کہ ہوں مہ کا ہالا

کھو ہی جاؤں نہ کہیں میں، کہ ہوں مہ کا ہالا وقت، لگتا ہے کہ ’میرا‘ نہیں رہنے والا جس سے زیبا ہوں، وہ زیبائی ہے اب جانے کو ہے گلُو میں سے اُترنے کو، یہ جاں کی مالا تن بدن میں ہے مرے، کیسی یہ کھیتی باڑی میری رگ رگ میں اُتر آیا، یہ کیسا بھالا میں کہ خوشہ ہوں ، دعا کیسے یہ مانگوں اُلٹی میں نہ ،چکّی کا بنوں خاک و فلک کی ،گالا ڈھیل شاید نہ دے اب اور مجھے، چیخنے کی جسم میں ہے جو،…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ موتی پئے جمالِ ہنر ڈھونڈنے پڑے

موتی پئے جمالِ ہنر ڈھونڈنے پڑے آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے جنگل میں طائروں کی چہک، آہوؤں کا رم کیا کیا نہ ہمرہانِ سفر ڈھونڈ نے پڑے آئے گا کل کے بعد جو دن، اُس کو پاٹنے کیا کیا جتن نہ شام و سحر ڈھونڈنے پڑے اپنے ہی جسم و جان کی پیہم کرید سے ماجد ہمیں خزائنِ زر ڈھونڈ نے پڑے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں

لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں کہ سانس سانس کے تیور الاؤ جیسے ہیں ہٹے ہیں اور نہ ہٹ پائیں خوردگاں پر سے سرِجہان بڑوں کے دباؤ جیسے ہیں وہ دوستی کے ہوں یا تا بہ عمر رشتوں کے ہم آپ ہی نے کیے ہیں چناؤ جیسے ہیں شجر شجر پہ یہی برگِ زرد سوچتے ہیں اُڑا ہی دیں نہ ہَوا کے دباؤ جیسے ہیں زباں کی کاٹ کے یا بّرشِ تبر کے ہیں ہماری فکر و سماعت پہ گھاؤ جیسے ہیں چلن دکھائیں بالآخر نہ پھر کمانوں سا…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی

نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی سنی بھی میری کہانی تو درمیاں سے سنی اُٹھی نہ تھی جو ابھی حلق سے پرندے کے وہ چیخ ہم نے چمن میں تنی کماں سے سنی ملا تھا نطق اُسے بھی پہ نذرِ عجز ہُوا کتھا یہی تھی جو ہر فردِ بے زباں سے سنی دراڑ دُور سے ایوان کی نمایاں تھی زوالِ شہ کی حکایت یہاں وہاں سے سنی زباں سے خوف میں کٹ جائے جیسے لفظ کوئی صدائے درد کچھ ایسی ہی آشیاں سے سنی گماں قفس کا ہر…

Read More