محمد نور آسی ۔۔۔ شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں

شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں
جانے کیا چل رہا ہے بھیتر میں

کیسے کہہ دوں کہ میں اکیلا تھا
کوئی چلتا رہا برابر میں

جب تلک پاؤں پانیوں میں رہے
آگ جلتی رہی سمندر میں

شب ابھی اور کتنی باقی ہے
کروٹیں سوچتی ہیں بستر میں

اک توجہ کا آسماں پاکر
کیا اڑانیں ہیں دل کبوتر میں

عکس معکوس ہوگئے سارے
آئنے کھو گئے تھے منظر میں

عمر بھر جاپنے کے بعد کھلا
کوئی انتر نہیں تھا منتر میں

اب وہ کنکر بنے ہیں گلیوں کے
پھول رہتے تھے جن کی ٹھوکر میں

میری امید اس کی ذات سے ہے
جو کھلاتا ہے پھول پتھر میں

زندگی کیا تلاشتی تھی مری
فیصلہ ہو گیا نظر بھر میں

ایک دنیا ہے گھر کے باہر اور
ایک دنیا بسی ہوئی گھر میں

Related posts

Leave a Comment