شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں جانے کیا چل رہا ہے بھیتر میں کیسے کہہ دوں کہ میں اکیلا تھا کوئی چلتا رہا برابر میں جب تلک پاؤں پانیوں میں رہے آگ جلتی رہی سمندر میں شب ابھی اور کتنی باقی ہے کروٹیں سوچتی ہیں بستر میں اک توجہ کا آسماں پاکر کیا اڑانیں ہیں دل کبوتر میں عکس معکوس ہوگئے سارے آئنے کھو گئے تھے منظر میں عمر بھر جاپنے کے بعد کھلا کوئی انتر نہیں تھا منتر میں اب وہ کنکر بنے ہیں گلیوں کے پھول رہتے تھے…
Read More