دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم ترا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لیے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں عشق تھا ، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم! چل ، کسی روز آ ، سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ،…
Read MoreTag: محمد نور آسی کی غزل
محمد نور آسی ۔۔۔ شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں
شورکیسا ہے دل کی جھانجھر میں جانے کیا چل رہا ہے بھیتر میں کیسے کہہ دوں کہ میں اکیلا تھا کوئی چلتا رہا برابر میں جب تلک پاؤں پانیوں میں رہے آگ جلتی رہی سمندر میں شب ابھی اور کتنی باقی ہے کروٹیں سوچتی ہیں بستر میں اک توجہ کا آسماں پاکر کیا اڑانیں ہیں دل کبوتر میں عکس معکوس ہوگئے سارے آئنے کھو گئے تھے منظر میں عمر بھر جاپنے کے بعد کھلا کوئی انتر نہیں تھا منتر میں اب وہ کنکر بنے ہیں گلیوں کے پھول رہتے تھے…
Read More