محمد نور آسی ۔۔۔ دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں

دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم ترا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لیے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں عشق تھا ، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم! چل ، کسی روز آ ، سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ،…

Read More