سید آل احمد ۔۔۔ آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا

آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا ابر کا انتظار کتنا تھا اک الاو تھا رُوٹھنا اس کا مسکراتی تو پھول کھل جاتا دل کے در پر یہ کس نے دستک دی گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا تیری قربت مری ضرورت تھی یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا دو قدم اور ساتھ دے لیتے حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ آو قانون کی کتاب پڑھیں اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا میرے حصے میں غم کی…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ

اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ سلسلہ جڑ تو گیا حسنِ طرح دار کے ساتھ صاحبِ دل ہیں‘ کوئی رُت ہو‘ بھرم رکھتے ہیں اپنا رشتہ ہے ازل سے رسن و دار کے ساتھ اب کسے تن پہ سجائے گا کڑی دھوپ میں پیڑ ٹوٹ کر پتے لگے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ اِک ذرا دیر ٹھہر جا بت خاموش مزاج! نطق زنجیر تو کر لوں لبِ اظہار کے ساتھ عمر بھر کس نے اصولوں کو ترازو رکھا کون رُسوا ہوا اس شہر میں کردار کے ساتھ…

Read More

سید آل احمد ۔۔ موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے

موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے ہم زاد مرا قلب کا سادہ بھی بہت ہے نفرت بھی محبت کی طرح کرتا ہے مجھ سے وہ پیار بھی کرتا ہے رُلاتا بھی بہت ہے وہ شخص بچھڑتا ہے تو برسوں نہیں ملتا ملتا ہے تو پھر ٹوٹ کے ملتا بھی بہت ہے خوشحال ہے مزدور بہت عہدِ رواں کا ماتھے پہ مگر اُس کے پسینہ بھی بہت ہے برسا ہے سرِ دشتِ طلب اَبر بھی کھل کر سناٹا مری روح میں گونجا بھی بہت ہے تم یوں ہی شریک…

Read More

عید ۔۔۔ سید آلِ احمد

عید ۔۔۔۔ انبساطِ حیات کیا کہیے روحِ احساس مسکرائی ہے مجھ کو خود تو خبر نہیں، لیکن لوگ کہتے ہیں: عید آئی ہے (۱۹۵۶ء) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام : صریرِ خامہ ناشر: سخن کدہ، احمد نگر، بہاول پور مطبوعہ: گردیزی پریس بہاول پور سنِ اشاعت: ۱۹۶۴ء

Read More

سید آلِ احمد

کس مسافت کے بعد پہنچا ہے تیرے رُخسار پر مرا آنسو

Read More