سید آل احمد ۔۔۔ دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے

دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے

اک رنج رایگاں کی طلب بے حساب ہے

لغزش کے سہو پر مجھے شرمندگی نہیں
قربت کی ہر کجی مری گل آفتاب ہے

پچھلے برس بھی نیکیاں سب ضائع ہو گئیں
اب کے برس بھی جان! کڑا احتساب ہے

بے شک وہ بے وفا ہے مگر اس کی راہ میں
دل کی طرح چراغ جلانا ثواب ہے

اے صبح نو! لہو کی حرارت بھی کر عطا
ہیں برف حرف لب پہ یہی انقلاب ہے

نفرت بھی وہ کرے تو کوئی دُکھ نہ دے اُسے
اے رب ذوالجلال! مرا انتخاب ہے

آنکھوں میں نفرتوں کے مضامین درج ہیں
دل پر جو ہے رقم وہ ترا انتساب ہے

دریا کے دو کناروں کی صورت ہے ان دنوں
یا ضدِ اختلاف ہے یا اجتناب ہے

فرصت ملے تو اُس کو ہر اک زاویے سے پڑھ
وہ صرف ایک جسم نہیں ہے‘ کتاب ہے
اندھی سماعتوں کی زمیں پر مقیم ہوں

اب حرف مدعا بھی نشاطِ سراب ہے

احمد وفا کے لفظ کو بدذائقہ نہ کر
اس عہد میں تو اس کا تصور بھی خواب ہے

Related posts

Leave a Comment