موسمِ گُل عجب گُل کھلانے لگا میرا محبوب چہرہ چُھپانے لگا قربتیں خواب ہوکر سبھی رہ گئیں مِلنا جُلنا تو بالکل ٹھکانے لگا ہم پہاڑوں سے خائف نہیں ہو سکے ایک ننھا سا ذرّہ ڈرانے لگا غیرمحتاط سارے رویّے گئے ہر کوئی احتیاطیں بتانے لگا قیدِ تنہائی جس کو دوا میں مِلی وہ جبیں کو زمیں سے لگانے لگا ہر معالج محافظ مسیحا بنا کھیل کر جاں پہ جانیں بچانے لگا شفیق امتحاں کے دنوں میں ہیں اب ہم کو پروردگار آزمانے لگا
Read MoreTag: محمد شفیق انصاری کی شاعری
محمد شفیق انصاری ۔۔۔۔ سلام
سلام صبر کی ہیں تصویر حسینؓ سچ کی ہیں تفسیر حسینؓ حق و باطل کے مابین کھینچی ایک لکیر حسینؓ نانا دیں کے ہیں سردار نانا کی جاگیر حسینؓ خون سے اپنے کربل میں لکھی کیا تحریر حسینؓ! حر جیسوں کی اک پل میں بدل گئی تقدیر حسینؓ تپتے صحرا میں پیاسے کوثر تھی جاگیر ، حسینؓ جرأت و عظمت کا مینار تیری وہ ہمشیر ، حسینؓ! ظلمت کے اس دور میں بھی اک سچی تنویر ، حسینؓ صدیوں سے لاریب شفیق ہم تیرے دلگیر ، حسینؓ!
Read More