اکرم کنجاہی ۔۔۔ جب بھی تتلی نے کسی پھول پہ پَر چھوڑ دیا

جب بھی تتلی نے کسی پھول پہ پَر چھوڑ دیا اشک بے کل نے مری آنکھ کا گھر چھوڑ دیا درد و احساس بھی لشکر ہے کہ جس نے، اکثر کرکے دل زار مرا زیر و زبر چھوڑ دیا خود کو پتوں میں چھپاتے ہیں وہ پنچھی ، جن کو آگ جنگل میں لگی کاٹ کے پر چھوڑ دیا میرے یاروں کی طرح تیز ہوا میں دیکھو خشک پتّوں نے ثمربار شجر چھوڑ دیا ضعفِ بازو نہ سمجھ اور محبت پہچان تیغ نفرت کی بھی چھوڑی تھی تبر چھوڑ دیا…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شہناز شورو (مضمون)

شہناز شورو یہ الفاظ افسانہ نگار ڈاکٹر شہناز شورو کے ہیں: ’’افسانہ ابتدا ہے، افسانہ انتہا ہے،افسانہ قاتل ہے، افسانہ مقتول ہے، افسانہ بنائے زندگی، افسانہ بقائے زندگی، افسانہ راز، افسانہ بے خودی، افسانہ ہوش مندی، افسانہ نگاہ، افسانہ نشتر، افسانہ واردات، افسانہ خلق اور افسانہ خدا ہے۔‘‘ اِن الفاظ سے افسانہ نگار کی سوچ اور فکر کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔یہ ایک ایسے تخلیق کار کی سوچ ہے جو افسانہ نگاری کوکارِ بیکارخیال نہیں کرتا۔اُن کے نزدیک افسانہ زندگی اور بقائے زندگی ہے۔ افسانہ ہوش مندی سے ناسوروں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شمع خالد (تعارفی نوٹ)

شمع خالد شمع خالد ۳؍ اپریل ۱۹۴۷ ء کے روز راول پنڈی میں پیدا ہوئیں۔ بہت عرصہ تک ریڈیو پاکستان میں سینئر پروڈیوسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔چوں کہ ریڈیو سے وابستہ رہی ہیں تو بچوں کی کہانیاں اور ڈرامے بھی لکھے۔قلم سے رشتہ استوار کیے اُنہیں کئی دہائیاں بیت چکی ہیں اور اُن کا شمار کہنہ مشق فکشن نگاروں میں کیا جاتا ہے۔مزید براں ایک معروف کالم نگار بھی ہیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’پتھریلے چہرے‘‘ کے نام سے ۱۹۸۲ء میں منظر عام پر آیا۔ بعد ازاں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ تنویر انور خان ( مضمون)

تنویر انور خان کراچی میں مقیم معروف افسانہ نگار تنویر انور خان ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔اُن کے شریکِ حیات ڈاکٹر محمد انور خان بھی ایک با ذوق شخصیت اور جانے پہچانے آئی سرجن ہیں۔حال ہی میں اُن کی دو تازہ افسانوی کتب کانچ کے ٹکڑے اور ٹوٹا پتہ کے نام سے منظر عام پر آئی ہیں۔ قبل ازیں اُن کے آٹھ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں زنجیریں، پرچھائیں اور عکس، پانی کا بلبلہ،میت رے،ہلالی کنگن، بے قیمت،شگون کے پھول، وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیرا رحمان (مضمون)

حمیرا رحمان ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ادبی منظر نامے پر ابھرنے والی شاعرات میںسے ہیں۔کالج کے مشاعرے اورریڈیو پاکستان ملتان سے بی بی سی اور پھر وہاں سے ہوتی ہوئیں نیو یارک میں جا بسیں۔ ایک شاعرہ کی حیثیت سے تیزی سے ادبی منظر نامے پر ابھری تھیں مگر امریکا منتقل ہو گئیں۔اُن کا پہلا مجموعۂ غزل و نظم ’’اندمال‘‘ ۱۹۸۵ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ جب کہ ’’انتساب‘‘ (۱۹۹۷ء) میں منظر عام پر آیا۔انہوں نے لہجے اوراسلوب کو بر قرار رکھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ شعر گوئی میں ایک…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ڈاکٹر راحت افشاں (مضمون)

ادب اور تاریخ کا رشتہ زندگی کا اصول اصلی حرکت اور تغیر ہے۔ اس حرکت و تغیر کے حالات کو مرحلہ وار قلم بند کرنا تاریخ ہے۔ تغیر کی دو سطحیں ہوتی ہیں۔ پہلی سطح پر تغیر ذہنِ انسانی سے آزاد خارجی دنیا میں اپنے طور پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ مثلاً رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا ہونا، موسموں میں معمول کے مطابق تبدیلی آنا اور اسی طرح کی بے شمار تبدیلیاں ہیں جو نوعِ انسانی کو متاثر کرتی ہیں۔ خارجی دنیا کی یہ تبدیلیاں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ الطاف فاطمہ (تعارف)

الطاف فاطمہ الطاف فاطمہ اُردو کی ممتاز فکشن نگار، مترجم، محقق اور ماہرتعلیم تھیں۔وہ ۱۹۲۹ء میں لکھنو میں پیدا ہوئیں۔قیامِ پاکستان کے بعد اپنے عزیزوں کے ساتھ لاہور منتقل ہو گئیں۔گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین میں درس و تدریس سے وابستہ رہیں۔۲۰۱۸ء میں انتقال ہوا۔اُن کا پہلا افسانہ ۱۹۶۲ء میں موقر ادبی جریدے ادبِ لطیف، لاہور میں شائع ہوا۔اُن کے افسانوی مجموعوں میں تار عنکبوت، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں اور وہ جسے چاہا شامل ہیں مزید براں انہوں نے جاپانی افسانہ نگار خواتین کے ترجمہ کے ساتھ برصغیر کی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسائی فکشن کا ارتقا

نسائی فکشن کا ارتقا داستان، ناول اور افسانہ کہانی کی مختلف شکلیں ہیں، فکری و اسلوبیاتی حوالے سے جن کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔طلسماتی فضائیں تشکیل دینے،فوق الفطر ت اور محیر العقل قصے بیان کرنے میں داستان کا ثانی نہیں۔ناول ہمارے ماحول اور معاشرت سے جڑا ہوا ہے۔ وہ جنوں کے بادشاہ، پریوں کے دیس، شہزادوں اور شہزادیوں کی رومانی داستانیں بیان نہیں کرتا بل کہ ہماری اور ہماری عہد کی زندگی کے مثبت و منفی پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔افسانہ وحدتِ تاثر کی حامل مختصر کہانی ہے جو ناول…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ تسنیم کوثر (مضمون)

تسنیم کوثر لاہور میں مقیم معروف شاعرہ اور افسانہ نگارہ تسنیم کوثر کے افسانوی کردار عمومی طور پرمختلف ہوتے ہیں۔جیسے اُن کے افسانے ’’لینڈ لیڈی‘‘ کا مرکزی کردار ’’زینی‘‘ یا پھر ’’بھاری قیمت‘‘ کا مرکزی کردار ’’بھاگاں۔‘‘ اُن کے ہاں تانیثیت بھی جھلکتی ہے۔مرد اساس معاشرے میں عورت کی مجبوریوں کی عکاسی خوب ہے۔عورت کا شوہر   کس طرح اُس کی وفا داری اور قربانیوں کو فراموش کر کے بے حس پتھر بن جاتا ہے۔نسائی مسائل کو انہوں نے اِس حوالے سے اعتدال اورمتوازن انداز میں پیش کیا ہے کہ اُس…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ بسمل صابری (مضمون)

بسمل صابری وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہےعجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے اُردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہو گا جس نے یہ شعر نہ سنا ہو۔بسمل صابری کے اِس شعر نے مقبولیت کا بڑا سفر طے کیا ہے۔ اس شعر میں محبت کا والہانہ پن، ہجر و فراق کا کرب، نا تمامی و بے ثمری کا سوز و گداز اور جذبے کی صداقت قاری پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ موصوفہ ساہیوال میں مقیم ہیں۔ کبھی مشاعرے…

Read More