اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسائی شاعری کا ارتقا

نسائی شاعری کا ارتقا یہ بجا سہی کہ شعرأ نے سخن گوئی میں بڑی پروازِ فکر اور رفعتِ خیال کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے شاعری کو اظہارِ ذات سے لے کر نفیِ ذات تک ہر موضوع اور مضمون سے آشنا کیا ہے۔ یہ بھی بجا ہے کہ ہئیت اور فکر کے تجربوں میں انہیں شاعرات پر فوقیت حاصل رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ زندگی اور اُس کے متعلقات کے بہت سے ایسے گوشے ہیں، کئی ایسی نازک معاملات اور موضوعات ہیں جن پر ایک شاعرہ ہی نہ…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ایم زیڈ کنول

ایم زیڈ کنول لاہور میں مقیم معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول کا پہلا شعری مجموعہ ’’چہرے گلاب سے‘‘ ۱۹۹۸ء میں منظر عام پر آیا تھا: یہ کون میری روح کے اندر اُتر گیا ہر سو دکھائی دیتے ہیں چہرے گلاب سے عمومی طور پر نئے شعرا و شاعرات کے پہلے مجموعۂ کلام میں فکری طور پر جوآرزوئیں، تمنّائیں اور کچی عمروں کے خواب ہوتے ہیں، اُن کی جگہ لا شعور و وجدان کی جمالیاتی کیفیات بہت بہتر ڈکشن میں پیش کی گئی تھیں۔اسلوبِ بیاں کو خوب صورت رنگ دینے والی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔ عشرت معین سیما

عشرت معین سیما …………………………………… ہم نے تو ہجرتوں کے تسلسل کا دکھ سہا اپنے نگر کے پار کے اُس پار ہی سہی یہ شعر جرمنی میں مقیم معروف پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار اور مترجم عشرت معین سیما کا ہے۔ توازن اور موزونیت بھی حسن ہی کا دوسرا نام ہے۔ وجدان و لا شعور کے پرزم سے اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات کی دھنک رنگی پھوٹتی ہے تو خارجی عناصر پر غور و فکر ذمے داری کی جوت جگمگاتے اور ہمارے احساس کو لو دیتے ہیں۔ غزل و نظم میں جمالیاتی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ریحانہ روحی

ریحانہ روحی رہائی مشرقی عورت کی کیا اسیری کیا یہاں قفس سے قفس تک اُڑان ہے اور بس میں اکثر نسائی شاعری میں ترقی پسند اور خانگی تانیثیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یا نسائی اسلوبِ بیاں میں اظہار کے مسائل پر کچھ تحریر کرتے ہوئے، مذکورہ بالا شعر کا حوالہ ضرور دیتا ہوں۔ یہ خوب صورت شعر نسائی شاعری کے ارتقا میں کئی شاعرات کی بنیادی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔یہ شعر معروف شاعرہ ریحانہ روحی کا ہے جو کافی عرصہ وطن سے دور الخبر (سعودی عرب) میں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔ پروین فنا سید

پروین فنا سید پروین فنا سید ایک ایسی شاعرہ تھیں جنہوں نے جدت کے نام پر شعری بدعتیں قبول نہیں تھیں۔ لہٰذا اُن کی شاعری اعتدال، انسان دوستی، حسن و جمال اور اعتماد کی شاعری ہے۔اُن کا پہلامجموعۂ کلام ’’حرفِ وفا‘‘ اُن کی بیس برس کی شعری ریاضت کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کافلیپ تحریر کرتے ہوئے احمد ندیم قاسمی نے لکھا: ’’پروین فنا سیّد کی شاعری عفتِ فکر اور پاکیزگیِ احساس کی شاعری ہے۔غزل کی سی صنفِ شعر میں بھی جس میں اکثر شاعروں نے علامت اور…

Read More