ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے…
Read MoreTag: Talib Ansari
طالب انصاری ۔۔۔ پسند کرنا تھا جس کو کہاں پسند کیا
پسند کرنا تھا جس کو کہاں پسند کیا چراغ چھوڑ کے ہم نے دھواں پسند کیا تمھارے واسطے آسانیاں فراہم کیں اور اپنے واسطے ہر امتحاں پسند کیا میں اپنی بات سناتا تھا اور زمانے نے تمھارا ذکر سرِ داستاں پسند کیا میں اپنے بارے میں کچھ ایسا خوش گمان نہیں زہے نصیب اگر تم نے ہاں پسند کیا زمین سے بھی تعلق بحال رکھا ہے یہی نہیں کہ فقط آسماں پسند کیا خمارِ دشت نوردی سے بے خبر ہی رہا وہ جس نے اپنے لیے سائباں پسند کیا ہمارا…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ طالب انصاری
تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریل سے اور تو زادِ رہِ شہرِ نبی کچھ بھی نہ تھا میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبر ہوا اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے اس جمالِ نور پرور کا بیاں ممکن نہیں یہ بتایا جا نہیں سکتا کسی تمثیل سے ہوں طوافِ گوشۂ غارِ حرا میں منہمک خصلتِ پروانہ سیکھی ہے اسی قندیل سے اور سارے کام سرعت سے کیا…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ جو کچھ بھی اُٹھانا ہے قرینے سے اُٹھائیں
جو کچھ بھی اُٹھانا ہے قرینے سے اُٹھائیں بس حسبِ ضرورت ہی خزینے سے اٹھائیں کھل جائے گا رستا بھی گلابوں بھری چھت کا پہلے خس و خاشاک تو زینے سے اُٹھائیں پھولوں کو جو خواہش ہو مہکنے کی زیادہ خوش بو کی لپٹ تیرے پسینے سے اُٹھائیں ہاتھ آئے گی یوں کیسے زر و سیم کی زنبیل پھنکارتا افعی تو دفینے سے اٹھائیں یارانِ وفادار بہتّر ہیں بہت ہیں بہتر ہے نہ کچھ اور مدینے سے اٹھائیں میں پار اُترنے کی ضمانت انھیں دوں گا امیّدِ شکستہ تو سفینے…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ آخری گزارش
آخری گزارش ۔۔۔۔۔۔۔۔ مری گفتگو بھیگے پتّوں پہ لکھی وہ تحریر ہے جو کسی کی سمجھ میں ہی آتی نہیں ہے مرے خواب زرتاب کرنوں سے گوندھے ہوئے خواب تاریکیوں سے بھری کوٹھڑی کی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے پڑے ہیں کہ یہ سکّۂ رائج الوقت ہرگز نہیں ہیں مری سوچیں مسجد کی الماری میں رکھّی پُرنور رحلیں جو بے کار چیزوں کی صورت ٹرنکوں کے اندر چھپا دی گئی ہیں انھیں جھاڑنے ، پونچھنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے مری خواہشیں گوردوارے کے اونچے کلس جیسی تھیں…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ آخری گزارش
آخری گزارش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مری گفتگو بھیگے پتّوں پہ لکھی وہ تحریر ہے جو کسی کی سمجھ میں ہی آتی نہیں ہے مرے خواب زرتاب کرنوں سے گوندھے ہوئے خواب تاریکیوں سے بھری کوٹھڑی کی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے پڑے ہیں کہ یہ سکّۂ رائج الوقت ہرگز نہیں ہیں مری سوچیں مسجد کی الماری میں رکھّی پُرنور رحلیں جو بے کار چیزوں کی صورت ٹرنکوں کے اندر چھپا دی گئی ہیں انھیں جھاڑنے ، پونچھنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے مری خواہشیں گوردوارے کے اونچے کلس جیسی تھیں…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ کہاں جاؤں
کہاں جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے لیے اک گھر بنانا ہے کہ اب سرکار کی جو نوکری ہے چُھٹنے والی ہے پرانی گلیوں میں واپس چلا جاؤں یہ جی تو کرتا ہے لیکن وہاں سے تو جڑیں ہی ایسی اکھڑی ہیں وہ مٹّی اجنبی نظروں سے مجھ کو گھورتی ہے اور مری پہچان سے انکار کرتی ہے مرے بیٹے نے جو نقشہ بنایا ہے تو اس میں کوئی ڈیوڑھی ہی نہیں ہے (اب کہیں تعمیر کی ہر ممکنہ صورت میں ڈیوڑھی کا تصوّر ہی نہیں ملتا) نہ لوہے کی سلاخوں والی…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ مشغلہ شعر گوئی ہے صاحب
مشغلہ شعر گوئی ہے صاحب ہم سا پاگل بھی کوئی ہے صاحب فصل غم کی میں آپ کاٹوں گا اپنے ہاتھوں سے بوئی ہے صاحب رات کا شکریہ ادا کر دوں میرے ہم راہ روئی ہے صاحب آرزو کو جگانے مت آنا شور کر کر کے سوئی ہے صاحب میری باتیں جسے سمجھ آئیں شہر میں کوئی کوئی ہے صاحب سرد راتوں میں کام آتی ہے یاد بھی گرم لوئی ہے صاحب ناؤکا پوچھتے ہو کیا مجھ سے ناخدا نے ڈبوئی ہے صاحب میں اکیلا بجھا بجھا تو نہیں شام…
Read More