گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ
محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ
اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں
والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ

۔۔۔۔۔

دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا
یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا
ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن
اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا

۔۔۔۔۔۔

لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے
دشواریاں آسان کرے مشکل ہے
کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام
اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے

۔۔۔۔

مت بھاگ یونہی وہم و گماں کے پیچھے
کچھ سوچ ہے کیا بزمِ جہاں کے پیچھے
ترتیب و توازن سے یہ اُٹھتا ہے سوال
طاقت ہے کوئی کون و مکاں کے پیچھے

۔۔۔۔۔

ہر سانس کو انمول نگینہ کر دے
ہستی کے خرابے کو خزینہ کر دے
ہے کاشفِ اسرارِ حقائق تو ہی
یا رب تو کشادہ مرا سینہ کر دے

۔۔۔۔۔

حق حمد سرائی کا ادا کیسے ہو
اظہارِ تحیر کے سوا کیسے ہو
ہم وصف محمد کے نہیں گن سکتے
محمود کی توصیف و ثنا کیسے ہو

۔۔۔۔

مندر کا مکیں پائے صنم چومتا ہے
کعبے کا محب سنگِ حرم چومتا ہے
جس عرش کو بوسے کی ہے خواہش سب کو
وہ صرف محمدؐ کے قدم چومتا ہے

۔۔۔۔

جی روزِ ازل سے وہیں لاگا ہوا ہے
احساس بھی پندار بھی جاگا ہوا ہے
رمضان کے دن نعتِ نبی کی باتیں
گلزار یہ سونے پہ سہاگا ہوا ہے

۔۔۔۔۔

امرت ہو کہ زہر اس میں سبو بولتا ہے
ہر حال میں ظرفِ من و تو بولتا ہے
چھپتے نہیں دنیا میں حسینؑ اور یزید
جیسا بھی کسی کا ہو لہو بولتا ہے

۔۔۔۔۔۔

کم کم ہی وفا قرب کو تجتے دیکھی
ہر سیج رفاقت سے ہی سجتے دیکھی
لازم ہے کہ ہو دوسرا بھی اس میں شریک
اک ہاتھ سے تالی نہیں بجتے دیکھی

۔۔۔۔۔

نام اور مقام کے حوالے سے بہت
تحسین کے معیار نرالے ہیں بہت
کردار کی تعظیم ہے کم لوگوں میں
منصب کو سلام کرنے والے ہیں بہت

۔۔۔۔۔۔۔

ممکن ہے تو سجدے میں جھکاتا ہو جبیں
ہیں نطق و زباں مدحِ محمد کے امیں
رب نے نہ کیا فکر سے عاجز مجھ کو
فالج زدہ ہوں شکر ہے مفلوج نہیں

۔۔۔۔

اچھی ہے وہ عورت جو ہنر والی ہو
شوہر کے لیے خیر خبر والی ہو
لگتی ہے بھلی سب کو ہی اچھی بیوی
ہر چند کے فرعون کے گھر والی ہو

Related posts

Leave a Comment