ڈیم
۔۔۔۔
اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے
وسائل کی بقا ہوتے
کوئی پانی کا ریلا
سیل یا طوفان کیوں بنتا
زمینوں کے لیے نقصان کیوں بنتا
مویشی اور بندے
ڈوب کر مرتے نہ لہروں میں
پریشاں اس قدر
ہر سوچ کا انسان کیوں بنتا
ہزاروں ڈیم پبلک کی مدد سے
رات دن تعمیر ہوتے ہیں
طلاطم کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں
کمی بجلی کی پیش آتی
نہ کوئی کارخانہ
بندشوں کا سامنا کرتا
تھپیڑے آزمائش کے
مسلسل ارتقا ہوتے
اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ پذیرائی
ابھی میں نے دہلیز پر پاؤں رکھا ہی تھا کہ کسی نے مرے سر پہ پھولوں... -
پروین شاکر ۔۔۔ گئے جنم کی صدا
وہ ایک لڑکی کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں میں اس... -
پروین شاکر ۔۔۔ وہی نرم لہجہ
وہی نرم لہجہ جو اتنا ملائم ہے جیسے دھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی...
