غم کی خوشبو سے معطر ہے کتابِ کربلا
ہر ورق ہے سرخ از خونِ گلابِ کربلا
فجر کا لمحہ طلوعِ مہرِ دُنیا کے لیے
عصر کی ساعت برائے آفتابِ کربلا
حرفِ آخر میں لکھا جائے گا صرف اسمِ حسینؓ
نامِ اسمٰعیل ؑہو گا انتسابِ کربلا
کیا ہمارے دَور میں بھی آئے گا کوئی حسینؓ
یہ جو کھُلتا جا رہا ہے ہم پہ بابِ کربلا
ہم نے پوچھا کیا یہی ہوتا ہے مہماں سے سلوک
کچھ نہیں بس اِک خموشی تھی جوابِ کربلا
وقت کے دربار میں ہوتے ہیں سارے فیصلے
کربلا ہی میں نہیں ہوتا حسابِ کربلا
ہم نہیں گھبرانے والے امتحانوں سے کبھی
ہم کو ازبر ہے ، غنیمِ جاں ! نصابِ کربلا
