ربطِ پیہم کا اس نے راستہ رکھا شہرِ حیرت کا در مجھ پر کھلا رکھا زخم دے کر اسے تو لا دوا رکھا ضبط میں آگہی کا سلسلہ رکھا زندہ رکھی تمنا وقتِ آخر بھی عشق کا حوصلہ جاں سے بڑا رکھا ملتے رہنا ہے اور میرا نہیں ہونا زندگی نے الگ ہی فلسفہ رکھا تم ہو کہ میرے اتنے پاس آ کر بھی قربتوں میں بدن بھر فاصلہ رکھا لوٹ جائے نہ وہ پھر سے کہیں مایوس میں نے در کو ہمیشہ ہی کھلا رکھا میں‘ حبیب! اس لیے…
Read MoreTag: بشیر احمد حبیب
بشیر احمد حبیب ۔۔۔ برسوں کے بعد دل میں وہ جذبہ نہیں رہا
برسوں کے بعد دل میں وہ جذبہ نہیں رہا ہم مر مٹے تھے جس پہ وہ چہرہ نہیں رہا باتیں تو اس کی آ ج بھی دل کے قریب ہیں گھر کر گیا تھا دل میں جو لہجہ نہیں رہا اب مجھ میں بندگی کی وہ خواہش نہیں رہی تجھ میں بھی بے رخی کا سلیقہ نہیں رہا اس کی ہنسی میں صرف فریبِ حیات ہے اس کے لبوں پہ پھولوں کا کھلنا نہیں رہا اک روشنی تو آ ج بھی اس کی نظر میں ہے دل میں اتر سکے…
Read Moreبشیر احمد حبیب ۔۔۔ مجھ سے جانے کیوں روٹھے ہو
مجھ سے جانے کیوں روٹھے ہو سب سے تم ہنس کر ملتے ہو دل میں اتنا درد چھپا کر کیسے تم ہنستے رہتے ہو اپنے گھر کو آ کر دیکھو اس دل میں بس تم بستے ہو یاس بھری ان راتوں میں تم جگنو سے اڑتے پھرتے ہو ساون کے موسم میں جاناں بارش سے تم کیوں ڈرتے ہو اپنابھی ہے مسکن تب تک شہر میں تم جب تک ٹھہرے ہو قسمت کی فیاضی ہے جو تم، ہم سے یوں آ ن ملے ہو وقت تو چلتا ہی رہتا ہے…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
بشیر احمد حبیب ۔۔۔ رو بہ رو آ کے مجھے شکل دکھا دی اس نے
بشیر احمد حبیب ۔۔۔۔ ہم پاس تھے مگر کبھی باہم نہیں ہوئے
بشیر احمد حبیب ۔۔۔ ہزاروں لوگ ملتے ہیں کوئی تم سا نہیں ملتا
ہزاروں لوگ ملتے ہیں کوئی تم سا نہیں ملتا کہیں سیرت نہیں ملتی، کہیں چہرہ نہیں ملتا مکمل ہوں، بہت خوش ہوں کہ اب اس دل میں جھانکوں تو تمھارے بِن کہیں کوئی بھی نظارہ نہیں ملتا تمھارے وصل نے کتنا مکمل کر دیا مجھ کو رہِ دنیا میں کوسوں تک پتا اپنا نہیں ملتا زمانہ ٹھیک سے سمجھا نہیں کارِ محبت کو محبت میں جو سچے ہیں انھیں کیا کیا نہیں ملتا تمہارے سامنے جو لوگ اپنے دھیان میں گم ہیں رہِ الفت میں کوئی اس قدر کھویا نہیں…
Read Moreبشیر احمد حبیب ۔۔۔ وہ چھپ بھی جائے تو مجھ کو دکھائی دیتا ہے
وہ چھپ بھی جائے تو مجھ کو دکھائی دیتا ہے خموشیوں میں مجھے سب سنائی دیتا ہے وہ اپنے ہونٹوں کی ہلکی سی ایک جنبش سے گلِ خیال کو کیا کیا رسائی دیتا ہے وہ اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے مے کدوں کے بیچ کبھی کبھار عجب آشنائی دیتا ہے طوافِ ذات عجب راس آگیا ہے اسے گلی میں، شہر میں کم کم دکھائی دیتا ہے کبھی کبھار تو بس یوں ہی آزمانے کو وہ پاس رہ کے مجھے کم نمائی دیتا ہے
Read More