برسوں کے بعد دل میں وہ جذبہ نہیں رہا ہم مر مٹے تھے جس پہ وہ چہرہ نہیں رہا باتیں تو اس کی آ ج بھی دل کے قریب ہیں گھر کر گیا تھا دل میں جو لہجہ نہیں رہا اب مجھ میں بندگی کی وہ خواہش نہیں رہی تجھ میں بھی بے رخی کا سلیقہ نہیں رہا اس کی ہنسی میں صرف فریبِ حیات ہے اس کے لبوں پہ پھولوں کا کھلنا نہیں رہا اک روشنی تو آ ج بھی اس کی نظر میں ہے دل میں اتر سکے…
Read MoreTag: بشیر احمد حبیب کی تخؒیقات
بشیر احمد حبیب ۔۔۔ مجھ سے جانے کیوں روٹھے ہو
مجھ سے جانے کیوں روٹھے ہو سب سے تم ہنس کر ملتے ہو دل میں اتنا درد چھپا کر کیسے تم ہنستے رہتے ہو اپنے گھر کو آ کر دیکھو اس دل میں بس تم بستے ہو یاس بھری ان راتوں میں تم جگنو سے اڑتے پھرتے ہو ساون کے موسم میں جاناں بارش سے تم کیوں ڈرتے ہو اپنابھی ہے مسکن تب تک شہر میں تم جب تک ٹھہرے ہو قسمت کی فیاضی ہے جو تم، ہم سے یوں آ ن ملے ہو وقت تو چلتا ہی رہتا ہے…
Read More