بشیر احمد حبیب ۔۔۔ ربطِ پیہم کا اس نے راستہ رکھا

ربطِ پیہم کا اس نے راستہ رکھا
شہرِ حیرت کا در مجھ پر کھلا رکھا

زخم دے کر اسے تو لا دوا رکھا
ضبط میں آگہی کا سلسلہ رکھا

زندہ رکھی تمنا وقتِ آخر بھی
عشق کا حوصلہ جاں سے بڑا رکھا

ملتے رہنا ہے اور میرا نہیں ہونا
زندگی نے الگ ہی فلسفہ رکھا

تم ہو کہ میرے اتنے پاس آ کر بھی
قربتوں میں بدن بھر فاصلہ رکھا

لوٹ جائے نہ وہ پھر سے کہیں مایوس
میں نے در کو ہمیشہ ہی کھلا رکھا

میں‘ حبیب! اس لیے چپ ہوں‘ کہ ہر ہر گام
وقت نے ایک تازہ سانحہ رکھا

Related posts

Leave a Comment