حل نہیں تھا کوئی ، احباب کی رائیں تھیں بہت اِک دِیا طاق میں تھا اور ہوائیں تھیں بہت زندگی ! کیسے مقابل تِرے آ سکتا تھا مَیں اکیلا تھا تِرے ساتھ بلائیں تھیں بہت بعض کو زہر ہی تریاق ہے ، جیسے کہ ہمیں عشق نے شانت کیا، ورنہ دوائیں تھیں بہت واں مِرے جبہ و دستار بھلا کیا کرتے محفلِ شوق میں رنگین قبائیں تھیں بہت دل کی بیماری ہی لاحق ہُوئی ، اچھا ہی ہُوا ورنہ تو اور بھی جاں لیوا وبائیں تھیں بہت جرمِ اُلفت میں…
Read MoreTag: خاور اعجاز
خاور اعجاز ۔۔۔ یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں
یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں نہر کی بولی سے مَیں سیکھی ہے دریا کی زباں عیش و عشرت میں کمیداں ہُوئے ایسے مصروف طاقِ نسیاں پہ دھری رہ گئیں شمشیر و سناں اِس میں ظاہر ہُوئے کچھ تازہ شگوفے تو کھُلا میرے گلدان پہ تہمت تھی یہ تصویرِ خزاں مجھے آتا ہے حریفوں کو بھی تابع رکھنا میرا سکہ ابھی بازار میں چلتا ہے میاں سب کو معلوم نہیں کوچۂ جاناں کا پتا کوئی کوئی ہے جسے اذنِ رسائی ہے یہاں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں
اِس لیے ہی تو اندھیرے میں دھرے رہتے ہیں شمع رُویوں کے ٹھکانوں سے پرے رہتے ہیں چھوڑ دیتے نہیں جو شاخِ شجر کا دامن زرد موسم میں بھی وہ پات ہرے رہتے ہیں سینہ و دل کہاں فارغ رہے عشاقوں کے یہ خزانے تو عجب غم سے بھرے رہتے ہیں شہر میں جس کی محبت کا ہے چرچا یارو کیا ستم ہے کہ ہم اُس سے ہی ڈرے رہتے ہیں شکوۂ جور و ستم کرتے ہیں ، لیکن حد ہے پھر اُسی شوخ کی خدمت میں مَرے رہتے ہیں …
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
گزریں گے ہر مقام سے مہتاب تھام کے جلتے ہیں جن کے دل میں چراغ اُنؐ کے نام کے وردِ زباں ہے اسمِ مبارک حضورؐ کا موسم بدل گئے ہیں مِرے صبح و شام کے کھُلتی گئیں زمان و مکاں کی بھی سلوٹیں فیضان ہیں اُنہیؐ کے یہ حسنِ کلام کے سارے گھروں میں ایک وہ گھر ہے رسولؐ کا سیکھا زمانہ جس سے ہنر احترام کے ذرّوں سے پھوٹتے ہیں : مہک ، رنگ ، روشنی کیا سلسلے ہیں گنبد و دیوار و بام کے شہرِ مدینہ مرجعِ عالم…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ تھل صحرا میں رات گزاری اوِر مقتل میں صبح
تھل صحرا میں رات گزاری اوِر مقتل میں صبح اِک کربل میں شام ہُوئی اور اِک کربل میں صبح سیرِ جہاں کے بعد ہمیں بس اِتنا یاد رہا جنگل ہی میں رین گذاری اوِر جنگل میں صبح شہر کی سڑکوں پر دیکھے ہیں ایسے لاغر جسم جاڑوں کی راتوں میں کرتے اِک کمبل میں صبح دو پل ہی کا میلہ تھا لیکن اِس جیون میں پچھلے پل میں شب کا سماں تھا ، اگلے پل میں صبح یہ تو بے گھر لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے اِک ہوٹل میں شب…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔۔ کچھ تیر کے باعث ہے نہ تلوار کے باعث
کچھ تیر کے باعث ہے نہ تلوار کے باعث مَیں کٹ کے گِرا اپنی ہی گفتار کے باعث کوتاہ قدوں پر تو عنایت کی نظر ہے مجھ پر ہے ستم قامتِ دستار کے باعث سب کو مِلا چپ رہنے پہ انعام میں خلعت مَیں مارا گیا جرأتِ اظہار کے باعث کچھ طالعِ خوابیدہ سے شکوہ نہیں اُن کو جھگڑا ہے مِرے دیدۂ بیدار کے باعث کھینچی تھی جو رُخ موڑنے کے واسطے خاور سیلاب در آیا اُسی دیوار کے باعث
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ خاور اعجاز
آئی ہے زمانے کی ہَوا آس لگائے پہلو میں لیے دل کا دِیا ، آس لگائے جاتے ہیں تِرے در سے سبھی جھولیاں بھر کے آتے ہیں تِرے در پہ سدا آس لگائے ہم عاصیوں پر نظرِ کرم اے مِرے مولا ہم بھی ہیں کھڑے روزِ جزا آس لگائے تجھ سے جو بندھی ہے ہر ِاک احساس کی ڈوری اِس دہر سے بندہ تِرا کیا آس لگائے مانگے پہ تو دُنیا بھی ہمیں دے گی بہت کچھ ہم تجھ سے ہیں کچھ اِس سے سوا آس لگائے نظریں ہیں طوافِ…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ ریگِ صحرا تو کبھی آبِ رواں دیکھتے ہیں
ریگِ صحرا تو کبھی آبِ رواں دیکھتے ہیں مَیں یہی دیکھتا ہُوں ، لوگ کہاں دیکھتے ہیں شہرِ خوباں میں نظر آتا ہے کیا کیا ہم کو آؤ آنکھوں کو پرے رکھ کے یہاں دیکھتے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں جانے یہ دُنیا والے تُو ہی آتا ہے نظر ہم تو جہاں دیکھتے ہیں حلقۂ چشمِ غزالاں میں اگر آئے ہیں کوئی دن اور تماشائے بتاں دیکھتے ہیں شیخ صاحب کو زباں پر نہ بیاں پر قابو رَو میں بہ جائیں تو پھر مُڑ کے کہاں دیکھتے ہیں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ اگرچہ شہرِ جاں میں غم نیا کوئی نہیں ہے
اگرچہ شہرِ جاں میں غم نیا کوئی نہیں ہے مگر جو ہم پہ گذری دیکھتا کوئی نہیں ہے چراغوں کو بھی مشکل ہو رہا ہے سانس لینا کئی دن سے دریچوں میں ہَوا کوئی نہیں ہے اِسی خاطر کیا ہے فیصلہ صف بندیوں کا ہمیں معلوم ہے اَب راستہ کوئی نہیں ہے یونہی چلتا رہے گا کاروبارِ زندگانی یہ دھوکا سب کو تھا لیکن رَہا کوئی نہیں ہے ہمارے ہی عمل کی ہے سپیدی اور سیاہی زمانہ خود سے تو اچھا بُرا کوئی نہیں ہے
Read Moreنعتؐ ۔۔۔ خاور اعجاز
نعتؐ آنکھ سے مَیں نے لگایا جب کبھی موئے رسولؐ میرے اطراف و جوانب پھیلی خوشبوئے رسولؐ جو کہا اور جو کِیا مرضیِ رب کے ساتھ تھا خوئے حق ہر دَم رہی ہے شاملِ خوئے رسولؐ حشر میں ہم سے گنہ گاروں کی بخشش ہو گئی ایک لحظہ کو ہُوا جب اِس طرف روئے رسولؐ کاخِ دُنیا کیا ہماری حیثیت پہچانتا ہم نبیؐ کی خاکِ پا ، ہم ذرّۂ کوئے رسولؐ کچھ زمینِ شوق ہی احسان مند اُنؐ کی نہیں شانۂ افلاک تک پھیلے ہیں گیسوئے رسولؐ
Read More