راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ میں نے قسمت کو آزمایا تھا

میں نے قسمت کو آزمایا تھا وہ مری زندگی میں آیا تھا میں نے اپنا سمجھ لیا تجھ کو تو جو اپنا نہیں پرایا تھا اس کے دل میں تھا کوئی پہلے سے جس کسی سے بھی دل لگایا تھا ساتھ تیرے رہا جو برسوں سے میں نہیں تھا وہ میرا سایہ تھا خواب میں اک خیال تھا شاید اس نے جیسے گلے لگایا تھا میرے آنگن میں پھول کھلتے گئے وہ جو بھولے سے مسکرایا تھا روشنی میں جو میرے ساتھ رہا میں تھا‘ تو تھا یا میرا سایہ…

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ جھلملاتے تارو ں میں لپٹی ہوئی لیلائے شب

جھلملاتے تارو ں میں لپٹی ہوئی لیلائے شب جانے کب سے اس طرح کا ایک پیکر دل میں ہے نیلگوں سی جھیل میں نیلا ہے عکسِ آسماں ایک منظر آنکھ میں ہے ایک منظر دل میں ہے حادثے اتنے ہوئے محسوس کُچھ ہوتا نہیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے سنگِ مر مر دل میں ہے اُلجھنیں،اندیشے،خدشے،وسوسے ہیں اس قدر دل ضرور اک اور اس دل کے برابر دل میں ہے ایک حُسنِ بے کراں ہے،اک ادائے بے بہا اک تصّو ر،ہر تصّور سے جو بر تر، دل میں ہے دل…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ کہانی کچھ ایسے بنائی گئی ہے

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ خواب در خواب

چل رہی ہے بڑے انداز سے آہستہ خرام لگ رہا ہے ترے کوچے سے صبا آئی ہے یوں مہک اُٹھا ہے گھر کا میرے گوشہ گوشہ جیسے اُٹھ کر ترے پہلو سے بہار آئی ہے پھول چن کر ترے پہلو سے ابھی لائی ہے کس نے دیکھا ہے کہ تارے بھی چمک اُٹھے ہیں چاند بھی جیسے سرِ بام اُتر آیا ہے ایک منظر جو تہہِ خواب تھا آسودہ کہیں اب حقیقت کی طرح مجھ کو نظر آیا ہے خواب در خواب پسِ عکس جو منظر ابھرا لاکھ چاہوں بھی…

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ سوچنا بھی محال ہے یارو

سوچنا بھی محال ہے یارو اُس کو میرا خیال ہے یارو کیا مجھے وہ بھی یاد کرتا ہے اِس کا اب کیا سوال ہے یارو وہ رہے خوش مگر ہمارے لیے زندگی کیا، وبال ہے یارو اپنی راہوں پہ لا کے چھوڑ گیا یہ بھی اُس کا کمال ہے یارو درد بھی اُس نے بے مثال دئیے وہ جو اپنی مثال ہے یارو

Read More