راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ میں نے قسمت کو آزمایا تھا

میں نے قسمت کو آزمایا تھا وہ مری زندگی میں آیا تھا میں نے اپنا سمجھ لیا تجھ کو تو جو اپنا نہیں پرایا تھا اس کے دل میں تھا کوئی پہلے سے جس کسی سے بھی دل لگایا تھا ساتھ تیرے رہا جو برسوں سے میں نہیں تھا وہ میرا سایہ تھا خواب میں اک خیال تھا شاید اس نے جیسے گلے لگایا تھا میرے آنگن میں پھول کھلتے گئے وہ جو بھولے سے مسکرایا تھا روشنی میں جو میرے ساتھ رہا میں تھا‘ تو تھا یا میرا سایہ…

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ جھلملاتے تارو ں میں لپٹی ہوئی لیلائے شب

جھلملاتے تارو ں میں لپٹی ہوئی لیلائے شب جانے کب سے اس طرح کا ایک پیکر دل میں ہے نیلگوں سی جھیل میں نیلا ہے عکسِ آسماں ایک منظر آنکھ میں ہے ایک منظر دل میں ہے حادثے اتنے ہوئے محسوس کُچھ ہوتا نہیں ایسے لگتا ہے کہ جیسے سنگِ مر مر دل میں ہے اُلجھنیں،اندیشے،خدشے،وسوسے ہیں اس قدر دل ضرور اک اور اس دل کے برابر دل میں ہے ایک حُسنِ بے کراں ہے،اک ادائے بے بہا اک تصّو ر،ہر تصّور سے جو بر تر، دل میں ہے دل…

Read More