صفی لکھنوی … غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا
قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سن کے
مدد اتنی اے بال و پرواز دینا
نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو
جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا
کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو
ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا
دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے
صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا

Related posts

Leave a Comment