بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…

Read More