حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…
Read MoreDay: اگست 30، 2026
قتیل شفائی
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
Read Moreقتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read Moreقتیل شفائی
پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read Moreقتیل شفائی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
Read Moreقتیل شفائی
کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
Read Moreقتیل شفائی
سرِ بام بھی پکارا ، لبِ دار بھی صدا دی میں کہاں کہاں نہ پہنچا تری دید کی لگن میں
Read Moreقتیل شفائی
یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا
Read Moreقتیل شفائی
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
Read More