دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read MoreDay: اگست 30، 2026
قتیل شفائی
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
ترکِ وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے
Read Moreقتیل شفائی
گرمیٔ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
Read Moreقتیل شفائی
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں
Read Moreقتیل شفائی
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی
Read Moreقتیل شفائی
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
Read More