حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریۂ شبنم نہ ہوں گے ذرا دیر آشنا چشمِ کرم ہے ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے کہوں بے درد کیوں اہلِ جہاں کو وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے ہمارے دل میں…

Read More

علامہ اقبال ۔۔۔ گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیطِ بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو میں ہوں خذف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر…

Read More

جانثار اختر ۔۔۔ آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں شرمائے، لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

Read More

شاد عظیم آبادی ۔۔۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے اب دردِ جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم اے شوق بُرا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہوا واں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے…

Read More

ناصر کاظمی ۔۔۔ اپنی دھن میں رہتا ہوں

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی! اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دُکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رُت مجھے روئے گی جاتی رُت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

Read More

عندلیب شادانی ۔۔۔ دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ دیں اپنی مرضی تک کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو کیوں یہ مہر انگیز تبسم مدِ نظر جب کچھ بھی نہیں ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آ جائے تو سنی سنائی بات نہیں یہ…

Read More

جون ایلیا ۔۔۔ نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا، اخلاص، قربانی، محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم سنا دیں عصمتِ مریم کا قصہ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمھاری ہی تمنا کیوں…

Read More

فیض احمد فیض ۔۔۔ آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے

آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے بامِ مینا سے ماہتاب اترے دستِ ساقی میں آفتاب آئے ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے نہ گئی تیرے غم کی سرداری دل میں یوں روز انقلاب آئے جل اٹھے بزمِ غیر کے در و بام جب بھی ہم خانماں خراب آئے…

Read More

ناظم علی خان ہجر

شبِ فراق کچھ ایسا خیالِ یار رہا کہ رات بھر دلِ غم دیدہ بے قرار رہا

Read More

ناظم علی خان ہجر

کہے گی حشر کے دن اس کی رحمتِ بے حد کہ بے گناہ سے اچھا گناہ گار رہا

Read More