محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریۂ شبنم نہ ہوں گے ذرا دیر آشنا چشمِ کرم ہے ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے کہوں بے درد کیوں اہلِ جہاں کو وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے ہمارے دل میں…
Read MoreTag: حفیظ ہوشیارپوری
حفیظ ہوشیارپوری
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
Read Moreحفیظ ہوشیارپوری
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
Read Moreحفیظ ہوشیار پوری
زمانے بھر کے غم اور اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
Read Moreعبدالحفیظ ظفر ۔۔۔ حفیظ ہوشیارپوری : ایک عمدہ غزل گو
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ غزل اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مقبولیت میں گلو کارہ نسیم بیگم اور گلو کار مہدی حسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے اس غزل کو گایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی سہل نہیں کہ دونوں میں سے زیادہ اچھا کس نے گایا۔ یہ لازوال غزل حفیظ ہوشیار پوری کی ہے جنہوں نے اپنی…
Read Moreحفیظ ہوشیاری پوری
تمام عمر تیرا انتظار ہم نے کیا اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
Read Moreناصر زیدی نمبر ۔۔۔ جنوری، فروری 2020ء
ناصر زیدی نمبر DOWNLOAD
Read More