رشید آفرین … مِری سوچوں میں کیسی بے کلی ہے

مِری سوچوں میں کیسی بے کلی ہے مِرے خوابوں پہ چھائی بے دلی ہے طلسماتی فضا میں میری حسرت بنا جھولے کے جھولا جھولتی ہے اِدھر دھرتی کا ہے بے رنگ سبزہ حسیں پھولوں کی رنگت بھی اُڑی ہے سجیلی مچھلیاں بھی دربدَر ہیں ادا لہروں کی یکسر اجنبی ہے لہو کا رقص ہے رگ رگ میں جاری خدا جانے یہ کیسی ساحری ہے ہلاہل تیرتا ہے پانیوں پر قضا اُوڑھے ہوئے گویا ندی ہے لرزتے ہیں سبھی کوہ و دمن بھی گھڑی جو آئے گی وہ منتہی ہے سبھی…

Read More

رشید آفرین ۔۔۔ رات کو کہنے لگیں ہم رات کیا ممکن نہیں؟

رات کو کہنے لگیں ہم رات کیا ممکن نہیں؟ ہو ہمارے لب پہ ہر سچ بات کیا ممکن نہیں؟ دم بدم ہو پیار کی برسات کیا ممکن نہیں؟ اس قدر بدلیں یہاں حالات کیا ممکن نہیں؟ بدگماں اک دوسرے سے ہو نہ پائیں دل کبھی ذہن سے مٹ جائیں سب خدشات کیا ممکن نہیں؟ مطمئن اور مست اپنے حال میں ہو ہر کوئی دور ہو جائیں سبھی خطرات کیا ممکن نہیں؟ آئو مل کر بانٹ لیں آپس کے سارے رنج و غم آخرش ہو جائیں کم صدمات کیا ممکن نہیں؟…

Read More

ناصر زیدی نمبر ۔۔۔ جنوری، فروری 2020ء

ناصر زیدی نمبر DOWNLOAD

Read More