جوش ملیح آبادی ۔۔۔ مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش مست و بیگانہ گزر جا کرۂ خاکی سے یہ تو ہے رہ گزرِ سیلِ خیالات اے جوش اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش لوگ کہتے ہیں حجابات نہیں جز آیات کس سے کہئے کہ یہ آیات ہیں خود ذات اے جوش اہلِ الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیں کس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوش دیکھیے صبحِ جنوں ذہن میں…

Read More

جوش ملیح آبادی

کوئی صدمہ ضرور پہنچے گا آج کچھ دل کو شادمانی ہے

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سلام

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو یہ جو چراغِ ظلم کی تھرا رہی ہے لو در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین پھر بزم آب…

Read More

جوش ملیح آبادی

چڑھ کے نیزے پہ دو عالم کو ہلا دیتی ہے کربلا موت کو دیوانہ بنا دیتی ہے

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے

سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے کونین ہے اک لرزشِ صہبا مرے آگے ہر نجم ہے اک عارضِ روشن مرے نزدیک ہر ذرہ ہے اک دیدۂ بینا مرے آگے ہر جام ہے نظارۂ کوثر مرے حق میں ہر گام ہے گلگشتِ مصلےٰ مرے آگے ہر پھول ہے لعلِ شکر افشاں کی حکایت ہر غنچہ ہے اک حرفِ تمنا مرے آگے اک مضحکہ ہے پرسشِ عقبیٰ مرے نزدیک اک وہم ہے اندیشۂ فردا مرے آگے ہوں کتنی ہی تاریک شبِ زیست کی راہیں اک نور سا رہتا ہے جھلکتا مرے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے

حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا سنے فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ لیکن نہ گل نہ غنچہ نہ باد صبا سنے خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات! درد آشنا کی بات نہ درد آشنا سنے شاہوں کے دل تو سنگ ہیں شاہوں کا ذکر کیا یہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے عالم ہے یہ کہ گوشِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو

ظالم یہ خموشی بے جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو اک آہ تو نکلے توڑ کے دل نغمے نہ سہی جھنکار تو ہو ہر سانس میں صدہا نغمے ہیں، ہر ذرے میں لاکھوں جلوے ہیں جاں محوِ رموزِ ساز تو ہو دل جلوہ گہہِ انوار تو ہو شاخوں کی لچک ہر فصل میں ہے ساقی کی جھلک ہر رنگ میں ہے ساغر کی کھنک ہر ظرف میں ہے مخمور تو ہو سرشار تو ہو کیونکر نہ شبِ مہ روشن ہو کیوں صبح نہ دامن چاک کرے کچھ وصفِ رموزِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ پھر سر کسی کے در پہ جھکائے ہوئے ہیں ہم

جوشؔ کی یہ غزل عشقِ بے خود، خرد شکنی، اور وجودی بے چینی کا آئینہ ہے، جہاں دل کی ہر دھڑکن میں ایک انقلاب انگڑائی لیتا ہے۔
الفاظ میں وہی آتش، وہی سیال تپش ہے جو جوش کے لہجے کو شعلۂ گفتار بنا دیتی ہے۔
شاعر، سرِ تسلیم خم کرنے میں بھی عارفانہ جرأت کا اعلان کر رہا ہے، گویا خاک میں بھی اکسیرِ حیات ملائی جا رہی ہو۔
زندگی کی آسائشوں سے بیزاری، اور دیوانگی کو سعادت جاننا، رندیِ عارفانہ کا نادر مظہر ہے۔
یہ غزل نہیں، حیات و کائنات کے طلسمات پر سوال اٹھاتی ہوئی ایک فکری زنجیر ہے، جس کی ہر کڑی شعور و وجدان سے پیوستہ ہے۔

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ موج دریا پہ چھا رہا ہے یہ کون

یہ غزل جوش ملیح آبادی کی تخیل انگیز، شہوانی و روحانی، وجدانی اور تمثیلی شاعری کا نادر و نایاب شاہکار ہے، جس میں حس، خواب، بدن، عشق، موسیقی، روشنی، ذہن، اور روح سب بیک وقت متحرک ہیں۔ پوری غزل ایک ہی سوال پر قائم ہے:

"یہ کون؟”

جیسے عشق، وجود، کائنات، فطرت، نسوانی حسن، اور الوہی اسرار — سب مل کر ایک منظرنامۂ تجلیات تشکیل دے رہے ہوں۔

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اے بہ رخ مصحف گلزار و چراغ حرم غنچگی و آیۂ گل باری و قرآن بہار

یہ غزل جوش ملیح آبادی کی خطیبانہ جولانی، استعارہ ساز فطرت، اور آتش بیانی کی درخشندہ مثال ہے۔
زبان میں ایک طرف فصاحت و بلاغت کی روانی ہے تو دوسری طرف فکر و جذبہ کی طغیانی۔
شاعر نے بہار کو محبوبِ خوابیدہ، پیامبرِ نشاط، اور روحِ جہاں کی صورت مخاطب کیا ہے۔
موضوع میں کائناتی افسردگی، تہذیبی جمود، اور حیاتِ نو کی پکار نمایاں ہے۔
یہ کلام محض غزل نہیں، بلکہ نثرِ مسجع کا نغماتی ارتعاش اور جوشیانہ سرشاری کا آئینہ دار ہے۔

Read More