یہ غزل باطن کی تجلی، روح کی بیداری، اور محبت کی معنوی تطہیر کا شعری مظہر ہے، جہاں ہر شعر اک اشکِ فکر، اک صداے دل معلوم ہوتا ہے۔
جوشؔ نے اپنے مخصوص خطیبانہ آہنگ میں حسن، وفا، اور معاشرتی اقدار پر نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ انہیں روحانی کشف و جذب کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔
اشعار میں اندیشہ و وجد کی وہ چنگاری موجود ہے جو دل کو لرزاں و ترساں رکھتی ہے—خصوصاً جب نویدِ عیش کے پیچھے نئی مصیبت کی آہٹ سنائی دے۔
شاعر حسن کے تغافل، ضبطِ شوق کی زہرناکی، اور اہلِ دنیا کی بے حسی پر شعلہ بیانی کے ساتھ اظہارِ افسوس کرتا ہے۔
یہ غزل جوشؔ کی عشقِ آگیں، فکرِ دروں بیں، اور سچ کہنے کی بیباک روایت کا درخشندہ استعارہ ہے، جہاں ہر لفظ بجائے خود تپش رکھتا ہے۔
Tag: جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی
یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ دوستو وقت ہے پھر زخم جگر تازہ کریں
یہ غزل ایک نویدِ تجدیدِ وفا ہے، جہاں شاعر اہلِ درد کو پکار کر دلوں کے زخموں کو تازگی، اور نگاہوں کو نئی روشنی کی دعوت دیتا ہے۔
ہر شعر میں فکری تموّج، تہذیبی سرفرازی، اور روحانی احیاء کی لہریں محسوس ہوتی ہیں، گویا غروب و طلوع کے پیمانے پر دل و نظر کی تطہیر ہو رہی ہو۔
"کلۂ فقر” اور "تاج و کمر” جیسے استعارے شجاعت، انا، اور فقرِ قلندرانہ کے حسین امتزاج کی علامت ہیں۔
شاعر ماضی کے جمالیاتی شعور کو شغلِ پارینہ کہہ کر ایک نئی سخن خیزی کا پیغام دیتا ہے، جس میں عشق، فن، اور دانش کی رونق پھر سے تازہ کی جائے۔
آخری شعر میں جوش اپنے لیے "شاہِ سخن” کا خلعتِ افتخار طلب نہیں کرتا، بلکہ اسے دل و دینِ سخن کا تازہ خون عطا کرنے کی تمنا کرتا ہے۔
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہو
فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر دل اسیرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام عقل والو پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجات دل کھلے بندوں غریقِ بحرِ عصیاں کیوں نہ ہو جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھ ہم نشیں پھر بیعتِ جامِ زر افشاں…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز
نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریز میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز محرابِ جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیا میں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبرِ جوش سے بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی
یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی ہونکی ہیں بادِ صبح کی رو میں بھی آندھیاں ابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اور یوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہ شعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوج آہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی دامانِ گل رخاں کی اڑا دی ہیں…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی
میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک
للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک پیر ہے جسم مگر طبع جواں ہے اب تک برف باری ہے مہ و سال کی سر پر لیکن خون میں گرمئ پہلوئے بتاں ہے اب تک سر پہ ہر چند مہ و سال کا غلطاں ہے غبار فکر میں تاب و تبِ کاہکشاں ہے اب تک کب سے نبضوں میں وہ جھنکار نہیں ہے پھر بھی شعر میں زمزۂ آبِ رواں ہے اب تک للہ الحمد کہ دربارِ خرابات کی خاک سرمۂ دیدۂ صاحب نظراں ہے اب تک زندگی کب…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے
نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے
اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…
Read More