فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر دل اسیرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام عقل والو پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجات دل کھلے بندوں غریقِ بحرِ عصیاں کیوں نہ ہو جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھ ہم نشیں پھر بیعتِ جامِ زر افشاں…
Read MoreTag: Josh Maleeh Abadi's Ashaar
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز
نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریز میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز محرابِ جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیا میں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبرِ جوش سے بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز
Read Moreجوش ملیح آبادی
کسی کا عہدِ جوانی میں پارسا ہونا قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی
Read More