فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر دل اسیرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام عقل والو پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجات دل کھلے بندوں غریقِ بحرِ عصیاں کیوں نہ ہو جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھ ہم نشیں پھر بیعتِ جامِ زر افشاں…
Read MoreTag: Josh Maleeh Abadi
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز
نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریز میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز محرابِ جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیا میں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبرِ جوش سے بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی
یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی ہونکی ہیں بادِ صبح کی رو میں بھی آندھیاں ابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اور یوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہ شعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوج آہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی دامانِ گل رخاں کی اڑا دی ہیں…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی
میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی
یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی کہ ملے نہ زندگی بھر مجھے دادِ خوش نوائی بخدا عظیم تر ہے شہدا کے خون سے بھی مرے سینۂ قلم میں جو بھری ہے روشنائی یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدیوِ ہفت قلزم طرف سراب دوڑے پئے قسمت آزمائی فلک اور اسے جھکائے سرِ منزل سفیہاں ملک آئیں جس کے در پر بہ ہوائے جبہ سائی چمنِ شعور نو کو جو لہو سے اپنے سینچے کبھی اس کو سکھ نہ بخشے کوئی پنجۂ حنائی ہمہ ساز ہوں بظاہر ہمہ سوز ہوں بہ…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ ایک رباعی
کیا لوگ رواں دواں ہیں چشمِ بددور شاداب و شگفتہ و بحالِ مسرور بغلوں میں چھپائے ہوئے اپنے کرتوت کاندھوں پہ بٹھائے ہوئے اوروں کے قصور
Read Moreجوش ملیح آبادی
کسی کا عہدِ جوانی میں پارسا ہونا قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی
Read Moreجوش ملیح آبادی
اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پُرہول ہے طوفانِ روایات ، اے جوش!
Read Moreجوش ملیح آبادی
میرے رونے کا جس میں قصہ ہے عمر کا بہترین حصہ ہے
Read Moreاوہام و عقاید ۔۔۔ جوش ملیح آبادی
اَوہام و عَقاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیف دورِ بندگی میں کس کو سمجھائوں کہ ہے صرف روحِ آدمیّت ہی اِلٰہُ العالمیں حیف حرفِ حق سے اب تک بر سرِ پیکار ہے عالمِ دینِ متین و مفتئ شرعِ مبیں حیف اوہام و عقاید کے سیہ بازار میں آج تک نورِ حقایق کی کوئی قیمت نہیں عقل کی توہین ہے عرشِ بریں کا احترام آ کہ اب ڈالیں بِنائے سطوتِ فرشِ مبیں دین کے قدموں پہ قرنوں تک یہ دنیا جھک چکی آ کہ اب دنیا کے قدموں پر جھکا دیں فَرقِ دیں
Read More