جوش ملیح آبادی ۔۔۔ وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیا

جوش ملیح آبادی کی یہ غزل ایک ایسے عاشقِ دلنواز کا آئینہ ہے جس نے وعدوں پر یقین، صبر پر سوال، اور بےقرار انتظار کو عبادت کی صورت اختیار کیا اور ہر تڑپ کو خالص محبت کا اظہار جانا۔

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے

اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…

Read More