یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی کہ ملے نہ زندگی بھر مجھے دادِ خوش نوائی بخدا عظیم تر ہے شہدا کے خون سے بھی مرے سینۂ قلم میں جو بھری ہے روشنائی یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدیوِ ہفت قلزم طرف سراب دوڑے پئے قسمت آزمائی فلک اور اسے جھکائے سرِ منزل سفیہاں ملک آئیں جس کے در پر بہ ہوائے جبہ سائی چمنِ شعور نو کو جو لہو سے اپنے سینچے کبھی اس کو سکھ نہ بخشے کوئی پنجۂ حنائی ہمہ ساز ہوں بظاہر ہمہ سوز ہوں بہ…
Read MoreTag: جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم
کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم یا فقط داستاں ہے کیا معلوم کیا حدودِ یقیں میں ہے خلاق یا سراسر گماں ہے کیا معلوم آرزو تھی خدا کو یا حاجت کیوں وجودِ جہاں ہے کیا معلوم لہو یا خود میں نقص کا احساس علتِ انس و جاں ہے کیا معلوم اضطراراً کہ بعدِ فکرِ دقیق خلعتِ ایں و آں ہے کیا معلوم کس لئے کس طرف بہر ساعت رخشِ ہستی رواں ہے کیا معلوم کس خلائے نظر کے بھرنے کو یہ زمیں آسماں ہے کیا معلوم ہے کہیں آفتابِ ذات…
Read Moreناصر زیدی نمبر ۔۔۔ جنوری، فروری 2020ء
ناصر زیدی نمبر DOWNLOAD
Read More