کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم یا فقط داستاں ہے کیا معلوم کیا حدودِ یقیں میں ہے خلاق یا سراسر گماں ہے کیا معلوم آرزو تھی خدا کو یا حاجت کیوں وجودِ جہاں ہے کیا معلوم لہو یا خود میں نقص کا احساس علتِ انس و جاں ہے کیا معلوم اضطراراً کہ بعدِ فکرِ دقیق خلعتِ ایں و آں ہے کیا معلوم کس لئے کس طرف بہر ساعت رخشِ ہستی رواں ہے کیا معلوم کس خلائے نظر کے بھرنے کو یہ زمیں آسماں ہے کیا معلوم ہے کہیں آفتابِ ذات…
Read More