احمد فراز

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

Read More

احمد فراز

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

Read More

احمد فراز ۔۔۔ اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے اب تو دریا میں…

Read More

احمد فراز

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

Read More

احمد فراز

office-PM321 رہِ وفا میں حریفِ خرام کوئی تو ہوسو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

Read More

احمد فراز

عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہےیوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

Read More

احمد فراز

جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھر بھی اے دوست! غور کر، شاید

Read More