احمد فراز ۔۔۔ اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے

اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے جیسے کوئی در دل پر ہو ستادہ کب سے ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے تم نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرۂ خوں ہے یوں ہے تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے عشق کا نام خرد ہے نہ جنوں ہے یوں ہے اب تم آئے ہو مری جان تماشا کرنے اب تو دریا میں…

Read More

احمد فراز

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

Read More

احمد فراز

office-PM321 رہِ وفا میں حریفِ خرام کوئی تو ہوسو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

Read More

احمد فراز

عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہےیوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے

Read More

احمد فراز

جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھر بھی اے دوست! غور کر، شاید

Read More

احمد فراز

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

Read More

احمد فراز

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

Read More

احمد فراز

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

Read More

احمد فراز

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

Read More

احمد فراز

کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا

Read More