محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
Read MoreTag: hafeez hoshiarpuri
حفیظ ہوشیارپوری
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
Read Moreحفیظ ہوشیار پوری
زمانے بھر کے غم اور اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
Read Moreعبدالحفیظ ظفر ۔۔۔ حفیظ ہوشیارپوری : ایک عمدہ غزل گو
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ غزل اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مقبولیت میں گلو کارہ نسیم بیگم اور گلو کار مہدی حسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے اس غزل کو گایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی سہل نہیں کہ دونوں میں سے زیادہ اچھا کس نے گایا۔ یہ لازوال غزل حفیظ ہوشیار پوری کی ہے جنہوں نے اپنی…
Read Moreحفیظ ہوشیاری پوری
تمام عمر تیرا انتظار ہم نے کیا اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
Read Moreحفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ اب کوئی آرزو نہیں ذوقِ پیام کے سوا
اب کوئی آرزو نہیں، ذوقِ پیام کے سوا اب کوئی جستجو نہیں، شوقِ سلام کے سوا کوئی شریکِ غم نہیں، اب تری یاد کے بغیر کوئی انیسِ دِل نہیں اب ترے نام کے سوا تیری نگاہِ مست سے مجھ پہ یہ راز کھل گیا اور بھی گردشیں ہیں کچھ، گردشِ جام کے سوا کاہشِ آرزو سہی حاصلِ زندگی، مگر حاصلِ آرزو ہے کیا، سوزِ مدام کے سوا آہ کوئی نہ کر سکا چارۂ تلخئ فراق نالۂ صبح کے بغیر، گریۂ شام کے سوا رنگِ بہار پر نہ بھول، بوئے چمن…
Read Moreحفیظ ہوشیار پوری
ہر مُردہ بدستِ زندگاں ہے مَیں زندہ بدستِ مُردگاں ہوں
Read More