اس لیے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے خواب کی سمت جاتی سڑک زیرِ تعمیر ہے اتنے پھول اک جگہ دیکھ کر سب کا جی خوش ہوا پتیاں جھڑنے پر کوئی کوئی ہی دلگیر ہے ہنستی دنیا ملی آنکھ کھلتے ہی روتی ہوئی یہ مرا خواب تھا اور یہ اس کی تعبیر ہے جس زباں میں ہے اس کی سمجھ ہی نہیں آ رہی غار کے دور کے ایک انساں کی تحریر ہے رحم کھاتی ہوئی کتنی نظروں کا ہے سامنا میری حالت ہی شاید مرے غم کی…
Read MoreTag: ہ
حفیظ ہوشیار پوری
ہر مُردہ بدستِ زندگاں ہے مَیں زندہ بدستِ مُردگاں ہوں
Read Moreسید آلِ احمد
ہر تہی خُلق عہد میں احمدؔ غم زدوں کے لیے مسیحا ہوں
Read Moreخورشید رضوی
ہوا کا رُخ تو اُسی بام و در کی جانب ہے پہنچ رہی ہے وہاں تک مری صدا کہ نہیں
Read Moreخالد احمد
ہر سخن تھا ہم اہلِ غم کے لیے دل شکن، دل خراش، دل آزار
Read Moreانور شعور
ہماری سرگزشت میں ہزار واقعات ہیں مگر جو دیکھتے رہے وہ خواب ایک بھی نہیں
Read Moreسجاد بلوچ
ہم کہ اس ہجر کے صحرا میں پڑے ہیں کب سے خیمۂ خوابِ رفاقت بھی نہ ہو تو کیا ہو
Read Moreکاشف حسین غائر
ہر شام دلاتی ہے اُسے یاد ہماری اتنی تو ہَوا کرتی ہے امداد ہماری
Read Moreصابر ظفر
ہمارا عشق، ظفر! رہ گیا دھرے کا دھرا کرایہ دار اچانک مکان چھوڑ گئے
Read Moreیگانہ
ہر شام ہوئی صبح کو اک خوابِ فراموش دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی
Read More