کاشف حسین غائر ۔۔۔ ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے  

ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے کیا خاک مری خاک میں امکان ہو پیدا ناپید ہیں موجود و میسر مرے آگے یوں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہوں پیچھے رہتا ہے مسافت میں مرا گھر مرے آگے رکھتی ہے عجب پاس مری تشنہ لبی کا سو موج اُٹھاتی ہی نہیں سر مرے آگے ہنستا ہی رہا میں در و دیوار پر اپنے روتا ہی رہا میرا مقدر مرے آگے کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری اور نیند بچھاتی رہی بستر…

Read More

کاشف حسین غائر ۔۔۔ چاند کیا ابر کی چادر سے نکل آیا ہے

چاند کیا ابر کی چادر سے نکل آیا ہے ایک آوارۂ شب گھر سے نکل آیا ہے اُس کو بھی چاہیے اب گھر سے نکل کر آئے رزق جس کے لیے پتھر سے نکل آیا ہے ایسا سناٹا ہے باہر کہ اسے دیکھنے کو شور سارا مرے اندر سے نکل آیا ہے اُس نے دستک کی سعادت نہیں بخشی مجھ کو چاپ سنتے ہی مری, گھر سے نکل آیا ہے کون اِس شہر میں زندہ ہے کہ پوچھے مجھ سے کیسے زندہ تُو سمندر سے نکل آیا ہے زخم سے…

Read More

کاشف حسین غائر ۔۔۔ یہ گلی، وہ گلی نکل آئے

یہ گلی، وہ گلی نکل آئے اور وہ گھر سے ابھی نکل آئے کون تھا ورنہ آشنا اُس کا مر گیا تو کئی نکل آئے بات تو جب ہے اِتنے لوگوں میں ایک بھی آدمی نکل آئے وقت لیکن کسی کے پاس نہیں باندھ کر سب گھڑی نکل آئے دیکھ تو اِس کباڑ خانے سے کوئی شے قیمتی نکل آئے بیٹھ کرسائے میں بھی دیکھ لیا اب تو بس دھوپ ہی نکل آئے آپ بادِ صبا سے کہئے گا اِس طرف بھی کبھی نکل آئے پیرہن کا تو ذکر کیا…

Read More