چاند کیا ابر کی چادر سے نکل آیا ہے ایک آوارۂ شب گھر سے نکل آیا ہے اُس کو بھی چاہیے اب گھر سے نکل کر آئے رزق جس کے لیے پتھر سے نکل آیا ہے ایسا سناٹا ہے باہر کہ اسے دیکھنے کو شور سارا مرے اندر سے نکل آیا ہے اُس نے دستک کی سعادت نہیں بخشی مجھ کو چاپ سنتے ہی مری, گھر سے نکل آیا ہے کون اِس شہر میں زندہ ہے کہ پوچھے مجھ سے کیسے زندہ تُو سمندر سے نکل آیا ہے زخم سے…
Read MoreTag: کاشف حسین غائر
کاشف حسین غائر ۔۔۔ یہ گلی، وہ گلی نکل آئے
یہ گلی، وہ گلی نکل آئے اور وہ گھر سے ابھی نکل آئے کون تھا ورنہ آشنا اُس کا مر گیا تو کئی نکل آئے بات تو جب ہے اِتنے لوگوں میں ایک بھی آدمی نکل آئے وقت لیکن کسی کے پاس نہیں باندھ کر سب گھڑی نکل آئے دیکھ تو اِس کباڑ خانے سے کوئی شے قیمتی نکل آئے بیٹھ کرسائے میں بھی دیکھ لیا اب تو بس دھوپ ہی نکل آئے آپ بادِ صبا سے کہئے گا اِس طرف بھی کبھی نکل آئے پیرہن کا تو ذکر کیا…
Read Moreکاشف حسین غائر
بنے ہیں کام سب اُلجھن سے میرے یہی اطوار ہیں بچپن سے میرے
Read Moreکاشف حسین غائر
کچھ ہیں بھی اگر ہم تو گرفتار ہیں اپنے زنجیر نظر آتی ہے آزاد ہماری
Read Moreکاشف حسین غائر
ہر شام دلاتی ہے اُسے یاد ہماری اتنی تو ہَوا کرتی ہے امداد ہماری
Read Moreکاشف حسین غائر
ایسے کھلتا تھا کہاں رنگِ جہاں تیری تصویر بنانے سے کھلا
Read Moreکاشف حسین غائر
کس کو معلوم ہے یہ بے خبری کس خبر سے فرار ہے اپنا
Read Moreکاشف حسین غائر
سیر کرنے سے، ہَوا لینے سے کام ہے دل کو مزہ لینے سے
Read More