چاند کیا ابر کی چادر سے نکل آیا ہے ایک آوارۂ شب گھر سے نکل آیا ہے اُس کو بھی چاہیے اب گھر سے نکل کر آئے رزق جس کے لیے پتھر سے نکل آیا ہے ایسا سناٹا ہے باہر کہ اسے دیکھنے کو شور سارا مرے اندر سے نکل آیا ہے اُس نے دستک کی سعادت نہیں بخشی مجھ کو چاپ سنتے ہی مری, گھر سے نکل آیا ہے کون اِس شہر میں زندہ ہے کہ پوچھے مجھ سے کیسے زندہ تُو سمندر سے نکل آیا ہے زخم سے…
Read MoreTag: Kashif Hussain Ghayer
کاشف حسین غائر ۔۔۔ یہ گلی، وہ گلی نکل آئے
یہ گلی، وہ گلی نکل آئے اور وہ گھر سے ابھی نکل آئے کون تھا ورنہ آشنا اُس کا مر گیا تو کئی نکل آئے بات تو جب ہے اِتنے لوگوں میں ایک بھی آدمی نکل آئے وقت لیکن کسی کے پاس نہیں باندھ کر سب گھڑی نکل آئے دیکھ تو اِس کباڑ خانے سے کوئی شے قیمتی نکل آئے بیٹھ کرسائے میں بھی دیکھ لیا اب تو بس دھوپ ہی نکل آئے آپ بادِ صبا سے کہئے گا اِس طرف بھی کبھی نکل آئے پیرہن کا تو ذکر کیا…
Read Moreکاشف حسین غائر
صبح سے جو مرے اعصاب پہ چھایا ہوا ہے ایک منظر ہے اُسی شام سے ملتا جلتا
Read Moreاکرم کنجاہی… روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر)
روایت کی دریافتِ نو کا شاعر (کاشف حسین غائر) کاشف حسین غائر ہمارے کراچی کے ان چند تازہ دم شعرا میں سے ہیں جن کے ہاں تھکاوٹ کا احساس نہیں۔ وہ بڑے سلیقے سے غزل کہہ رہاہے۔اُس نے غزل کو غزل سمجھ کر کہا ہے، اُس کی کوملتا پر حرف نہیں آنے دیا۔ اُس کے ہاں غزل اپنے پورے حسن، نزاکت اور لطافت کے ساتھ جلوہ ریز ہے۔ میں اِسے خالص غزل کا نام دوں گا کہ کاشف حسین غائر نے غزل میں زیادہ موضوعاتی تجربات کرنے کی بجائے اس…
Read Moreکاشف حسین غائر ۔۔۔ حبس ہے مجھ میں سوا، آج ہوا آئی نہیں
حبس ہے مجھ میں سوا، آج ہوا آئی نہیں روز آتی تھی ہوا، آج ہوا آئی نہیں دو دیے جلتے رہے، جلتے رہے اور آخر اک نے دوجے سے کہا، آج ہوا آئی نہیں میں نے کل خواب میں دیکھا تھا اسے آتے ہوئے یہی تعبیر ہے کیا،آج ہوا آئی نہیں اک ہوا اور بھی آتی ہے یہاں شام کے بعد آج اسے علم ہوا، آج ہوا آئی نہیں ایک بس میرے محلے کا ہی مذکور ہے کیا جانے کتنی ہی جگہ، آج ہوا آئی نہیں دیدنی ہے سبھی پیڑوں…
Read Moreکاشف حسین غائر
عجب مزاج تھا اپنا کہ گھر میں بیٹھے رہے کچھ اور سوچتے، کچھ اور جستجو کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: راستے گھر نہیں جانے دیتے
Read More