کاشف حسین غائر ۔۔۔ یہ گلی، وہ گلی نکل آئے

یہ گلی، وہ گلی نکل آئے
اور وہ گھر سے ابھی نکل آئے

کون تھا ورنہ آشنا اُس کا
مر گیا تو کئی نکل آئے

بات تو جب ہے اِتنے لوگوں میں
ایک بھی آدمی نکل آئے

وقت لیکن کسی کے پاس نہیں
باندھ کر سب گھڑی نکل آئے

دیکھ تو اِس کباڑ خانے سے
کوئی شے قیمتی نکل آئے

بیٹھ کرسائے میں بھی دیکھ لیا
اب تو بس دھوپ ہی نکل آئے

آپ بادِ صبا سے کہئے گا
اِس طرف بھی کبھی نکل آئے

پیرہن کا تو ذکر کیا کہ یہاں
لوگ تک کاغذی نکل آئے

Related posts

Leave a Comment