ہر سخن تھا ہم اہلِ غم کے لیے دل شکن، دل خراش، دل آزار
اس براؤزر میں میرا نام، ای میل، اور ویب سائٹ محفوظ رکھیں اگلی بار جب میں تبصرہ کرنے کےلیے۔