ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں میں حسنِ اتفاق سے دیوانہ ہو گیا
Read MoreDay: جولائی 30، 2026
فراغ روہوی
مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا
Read Moreصفی لکھنوی
کہاں تک تھی خوشی کے ساتھ وابستگی غم کی ذرا شیرازہ بندی دیکھیۓ اجزاۓ عالم کی
Read Moreصفی لکھنوی
الٰہی زندگی کیا ، موت کیا بیمارِ ہجراں کی پریشاں خواب وہ ، تعبیر یہ خوابِ پریشاں کی
Read Moreصفی لکھنوی
جا کے جن تازہ مزاروں پہ چراغاں کرنا ایک ٹوٹی ہوئی تربت پہ بھی احساں کرنا
Read Moreفراغ روہوی
ہمارے تن پہ کوئی قیمتی قبا نہ سہی غزل کو اپنی مگر خوش لباس رکھتے ہیں
Read Moreفراغ روہوی
کھلی نہ مجھ پہ بھی دیوانگی مری برسوں مرے جنون کی شہرت ترے بیاں سے ہوئی
Read Moreفراغ روہوی
اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغ جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا
Read Moreفراغ روہوی
نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جس میں کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ابھرتے ہوئے
Read Moreفراغ روہوی
تمھارا چہرہ تمہیں ہو بہ ہو دکھاؤں گا میں آئنہ ہوں، مرا اعتبار تم بھی کرو
Read More