فراغ روہوی

مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا

Read More

فراغ روہوی

اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغ جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا

Read More

فراغ روہوی

نہ جانے کیسا سمندر ہے عشق کا جس میں کسی کو دیکھا نہیں ڈوب کے ابھرتے ہوئے

Read More

فراغ روہوی

کبھی نہ سوچا تھا میں نے اڑان بھرتے ہوئے کہ رنج ہوگا زمیں پر مجھے اترتے ہوئے

Read More

فراغ روہوی

دماغ اہلِ محبت کا ساتھ دیتا نہیں اسے کہو کہ وہ دل کے کہے میں آ جائے

Read More