شاد عظیم آبادی ۔۔۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے اب دردِ جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم اے شوق بُرا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہوا واں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے…

Read More

شاد عظیم آبادی

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

Read More