نسیمِ سحر ۔۔۔ سہ سطریاں

پاکستان، جو ہم سب کی اُمّیدوں کا سرمایا ہے پاکستان، کہ جس سے ہم نے جو کچھ چاہا، پایا ہے ہم سے پوچھ رہا ہے، ہم نے اس کو کیا لوٹایا ہے؟ ٭ کبھی یہ غور تو کرناسبب ہے کیا اس کا؟ وفا کے ذکر پہ سب میری بات کرتے ہیں جفا کے ذکر پہ سب تیری بات کرتے ہیں ! ٭ شہر کے مرکزی چوراہے پر چاروں سگنل ہی سُرخ رہتے ہیں اور ٹریفِک بلاک رہتی ہے ! ٭ اب تو ایسا لگتا ہے جتنی سانسیں باقی ہیں اتنی…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ ہائیکو (جاپانی ہائیکو نگار یوشی میکامی اِسّا کے ہائیکوز کا ترجمہ)

A man, just one… Also a fly, just one.. In the huge drawing room تنہائی کا راج اتنے کشادہ کمرے  میں میں اور اِک مکھّی O snail Climb Mount Fuji But slowly, slowly ! رینگتے کیڑے، تُو کوہِ فُجی پر چڑھ تو سہی لیکن۔۔۔ آہستہ Napping at midday I hear the song of rice planters and feel ashamed of myself Kobayashi Issa خود پر شرمندہ  دھوپ میں محنت کش مصروف اونگھ رہا ہوں مَیں

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ اَے سبھوں کے خُدا، مِری سُن تو !

اَے سبھوں کے خُدا، مِری سُن تو ! شک میں ڈوبا مِرا تیقُّن تو؟ ایک دُنیا نئی بنے شاید ! مَیں نے بھی کہہ دیا اگر ’کُن‘ تو؟ اپنے شعروں میں سانس لیتا ہوں لگ گیا اِس ہنر کو جب گھُن تو؟ ٹھوکریں مار مت زمین پہ یوں تیرا بگڑا کہیں توازُن تو؟ ماننا بعد کی ہے بات، مگر کہہ رہا ہوں جو، غور سے سُن تو ! بے حِسی مجھ پہ حملہ آور ہے جِسم میرا جو ہو گیا سُن تو ؟ جھانک کر دیکھ میرے دِل میں کبھی…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ 16 دسمبر 1971ء(سقوطِ مشرقی پاکستان) کی یاد میں ایک نظم

جو میرے پیارے دُلارے وطن کا حصہ تھا جو میرا بازو تھا، میرے بدن کا حصہ تھا جُدا ہوا ہے تو اُس کا ملال کیوں نہ کروں؟ تباہ کِس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… جُدا ہوا جو مِرے دُشمنوں کی سازش سے اور اِس کے ساتھ کچھ اپنوں کی بھی نوازش سے بھلا بیان مَیں یہ سارا حال کیوں نہ کروں؟ تباہ کس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… اُگیں گی نفرتیں ایسا گماں کہاں تھا کبھی محبتوں کا سمندر رواں دواں تھا کبھی مَیں…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ ہم چلے اِس دشتِ ہُوکے اُس طرف

ہم چلے اِس دشتِ ہُوکے اُس طرف یعنی اپنے کاخ و کُو کے اُس طرف جستجو کا توجو حاصل ہے، سو ہے جانے کیا ہے جستجو کے اُس طرف! ایک سنّاٹے کی آوازیں بھی ہیں ایک شورِ ہاؤہوکے اُس طرف رنگ و بُو کے سلسلے ہیں اَور بھی اِس جہانِ رنگ و بُو کے اُس طرف منتظر میرا کئی صدیوں سے ہے ایک صحرا، آبجُو کے اُس طرف اِک خموشی اِس طرف پھیلی ہوئی اِک خموشی گفتگو کے اُس طرف رقص میں ہے اِک زوال آمادگی شِدّت ِشوقِ نمو کے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نسیمِ سحر

یوں ہُوا سرشاریٔ قلب وجگر کا فیصلہ فیصلہ کُن ہو گیا اُنؐ کی نظر کا فیصلہ پیش اُن ؐ کے سامنے ہوں مَیں شبِ تیرہ لیے اب اُنہی پر ہے مری شب کی سحر کا فیصلہ مَیں تو شاید دوسری جانب ہی چل پڑتا، مگر اُس طرف لے جائے، یہ تھا رہگذر کا فیصلہ تنگ جب کرنے لگی اس دل کو دنیا کی کشش کر لیا میں نے مدینے کے سفر کا فیصلہ خیر کا پہلو ہی رہتا تھا سدا پیشِ نظر جو بھی ہوتا تھا مرے خیر البشر کا…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ نظم (بیادِ خالد احمد)

’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں کہ ایسے نوحے پہلے کم پڑھے ہیں تمہارے درد کے موسم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں یوں جیسے بیٹھ کر باہم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں تمہارے دل کے سارے غم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں حروف ِ نوحہ و ماتم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں ہماری چشمِ گریاں کو تو دیکھو ! ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں خدارا اَور مت ہم کو رُلاؤ !…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نسیمِ سحر

اَور کِس کو لکھے یہ قلم ذی حَشَم؟ آپؐ سا کون ، شاہِ اُمم ، ذی حَشَم! میرے اشکوں کی آواز سن لیجیے کہہ رہا ہوں جو باچشمِ نم ، ذی حشمؐ نعت لکھی تو دل کچھ ہوا مطمئن نعت لکھ کر ہوا ہے قلم ذی حشم اَور کس پر یہ القاب سجتا لگے؟ بس وہی ہستیِ محترمؐ ، ذی حشم مُجھ کو توفیق دیجے ، کہ میں کر سکوں وردِ صلِّ علیٰ دم بدم ، ذی حشمؐ میرے حالِ زبوں پر نظر کیجیے مجھ پہ کیجے گا اپنا کرم…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ کہا تھا کس نے کہ یوں آسماں اُٹھائے پھرو

کہا تھا کس نے کہ یوں آسماں اُٹھائے پھرو سو اب یہ بارِ گراں میری جاں اُٹھائے پھرو لگی ہے آگ جو دل میں اُسے بھڑکنے دو نفس نفس میں تم اُس کا دھؤاں اُٹھائے پھرو زمین پاؤں تلے سے سرکتی جاتی ہے جدھر بھی جاؤ تُم اپنا مکاں اُٹھائے پھرو تمہاری بات سُنے ، کس کو اِتنی فرصت ہے لبوں پہ یوں نہ وہی داستاں اُٹھائے پھرو رفاقتوں کا نتیجہ یہی نکلنا تھا اب اپنی ذات کی تنہائیاں اٹھائے پھرو ہوئے ہو تم جو شکستہ شکستِ خواب کے ساتھ…

Read More

حمد ۔۔۔ نسیمِ سحر

نظر مری پسِ اَفلاک ہو تو حمد کہوں کچھ اُس کی ذات کا اِدراک ہو تو حمد کہوں گداز دِل میں ذرا اَور پیدا ہو جائے یہ آنکھ اَور بھی نمناک ہو تو حمد کہوں میں ٹوٹ پھوٹ چکا ہوں،سمیٹ لوں خود کو بحال یہ دلِ صد چاک ہو تو حمد کہوں ابھی تو ہے مری آنکھوں پہ جہل کا پردہ مَیں مُنتظِرہوں کہ یہ چاک ہو تو حمد کہوں زمیں پہ رہ کے مری سوچ کچھ حدود میں ہے کوئی اشارۂ افلاک ہو تو حمد کہوں پُرانے لگتے ہیں…

Read More